پیزا کی ڈرون ڈیلیوری پر ممبئی پولیس پریشان

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بھارت کی سکیورٹی فورسز ممبئی شہر پر پیرا گلائیڈر اور ڈرون حملے کے امکان پر پریشان رہتی ہیں: ذرائع

ممبئی پولیس نے ایک ریستوران کی طرف سے ریموٹ کنٹرول ڈرون کے ذریعے پیزا کی ڈیلیوری کے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں ڈرون کی پروازوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی اور وہ یہ معلوم کر رہے ہیں کہ کیا ریسٹورنٹ کے مالک نے ایوی ایشن اتھارٹی سے ڈرون اڑانے کی اجازت لے رکھی تھی یا نہیں۔

ممبئی کے فرانسسکو پزیریا نامی ریسٹورنٹ کا کہنا ہے کہ اس نے ڈرون کے ذریعے پیزا ڈلیوری کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

بھارتی اخبار اکنامک ٹائمز کے مطابق فرانسسکو پزیریا اپنے ریسٹورنٹ سے ایک میل کی حدود کے اندر بلند عمارتوں کے رہائشیوں کی طرف سے پیزا کے آرڈر ڈرون کے ذریعے پہنچا رہا ہے۔

فرانسسکو پزیریا کے مطابق ممبئی، جہاں سڑکوں پر بے تحاشا ٹریفک کی وجہ تیز رفتاری سے دوسرے مقام تک پہنچنا انتہائی مشکل ہے، وہاں ڈرون ڈلیوری کا بہترین ذریعہ ثابت ہو رہا ہے۔

مقامی پولیس کے سربراہ نے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا ہے کہ کسی بھی چیز کو اڑانے سے پہلے ایئر ٹریفک کنٹرول سے اجازت لینا لازمی ہے۔

پولیس اہلکار نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ وہ ریموٹ کنٹرول سے چلنے والی کسی چیز کی پرواز کے بارے میں انتہائی حساس ہیں۔

ذرائع کے مطابق بھارت کی سکیورٹی فورسز شہر پر پیرا گلائیڈر اور ڈرون حملے کے امکان پر پریشان رہتی ہیں۔

لیکن فرانسسکو ریسٹورنٹ کا کہنا ہے کہ ڈرون کے ذریعے پیزا ڈلیوری کا تجربہ انتہائی کامیاب تھا۔

اکنامک ٹائمز کے مطابق فرانسسکو ریسٹورنٹ کے ڈورن نے کبھی بھی چار سو فٹ سے زیادہ بلندی پر پرواز نہیں کی اور ڈرون کبھی اس کو اڑانے والے کی دسترس سے باہر نہیں تھا۔

گذشتہ برس آن لائن خرید و فروخت کی بڑی کمپنی ایمازون نے کہا تھا کہ وہ بغیر پائلٹ کے ڈرون کے ذریعے صارفین تک سامان پہنچانے کا تجربہ کر رہی ہے۔

اسی بارے میں