مودی کا ’ماسٹر سٹروک‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نریندر مودی کا ماضی میں پاکستان کے بارے میں موقف سخت رہا ہے

بھارت میں آزادی کے بعد پہلی بار ایک غیر کانگریسی جماعت واضح اکثریت کے ساتھ دہلی میں اقتدار میں آئی ہے۔

نومنتخب وزیراعظم تاریخی فتح سے ہم کنار ہوئے ہیں اور شاید اسی کی مناسبت سے انھوں نے اپنی حلف برداری کی تقریب میں اپنے سبھی پڑوسی ملکوں کو بھی شریک کرنا مناسب سمجھا۔

یوں تو یہ دعوت تمام آٹھ جنوب ایشیائی ملکوں کے لیے تھی لیکن یہ پاکستان کے سبب عالمی اہمیت اختیار کر گئی۔

بھارت میں مودی کے اس قدم کی ستائش کی گئی اور پوری دنیا میں اسے مودی حکومت کے ایک مثبت آغاز کے طور پر دیکھا گیا۔ بھارت میں یہ امید کی جا رہی ہے کہ گذشتہ 10 برس کے ضیاع کے بعد ٹوٹی ہوئی کڑیوں کو اس ملاقات سے ایک بار پھر جوڑنے کا موقع مل سکے گا۔

10 برس قبل سابق وزیراعطم منموہن سنگھ سے جب وچھا گیا تھا کہ وزیراعظم کے طور پر وہ کون سے اہم کام ہیں جو وہ کرنا چاہیں گے تو ان کا جواب تھا کہ اگر وہ اپنے دور اقتدار میں صرف بھارت اور پاکستان کے رشتوں کو بہتر کرنے میں کامیاب ہو گئے تو وہ سمجھیں گے کہ انھوں نے اپنے اقتدار کا مقصد حاصل کر لیا۔

ڈاکٹر منموہن سنگھ 10 برس تک اقتدار میں رہے لیکن بی جے پی کی مخالفت کے خوف سے پاکستان کا دورہ کرنے تک کی ہمت نہ کر سکے۔

اسلام آباد میں تین دنوں تک مودی کے دعوت نامے پر صلاح مشورے اور دو بار فیصلے کے اعلان کو ملتوی کیے جانے کے بعد وزیراعظم نواز شریف کے آنے کے اعلان سے دونوں ملکوں کے رشتوں کی پیچیدگی ہی نہیں پاکستان کی اندورنی سیاست کی مشکلات بھی عیاں ہوتی ہیں۔

Image caption نومنتخب وزیراعظم نریندر مودی کے دعوت نامے کے تیسرے دن پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے تقریب حلف برداری میں جانے کا اعلان کیا

ظاہر ہے نواز شریف کے دہلی آنے کافیصلہ آسان نہیں تھا۔

بھارت میں عام تاثر یہ ہے پاکستان کے سیاسی ادارے اور سویلین حکومت پہلے روز سے ہی دہلی کے دورے کے حق میں تھی اور اسے وہ ایک مثبت آغاز تصور کرتی ہے لیکن ان کے خیال میں پاکستان کی فوج دہلی کے دورے کے حق میں نہیں تھی۔

یہی نہیں بھارتی تجزیہ نگار جمعے کو ہرات میں بھارت کے قونصل خانے پر دہشت گردوں کے حملے کو بھی پاکستانی فوج کے حمایت یافتہ حملے سے ’منسوب‘ کر رہے ہیں اور اسے مودی کی دعوت کا پاکستان کی فوج کا ’جواب‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

نواز شریف کے آنے سے ایسا نہیں ہے کہ تلخ رشتوں میں اچانک کوئی بڑی تبدیلی رونما ہو جائے گی لیکن یہ ضرور ہے کہ ایک عرصے سے منجمد رشتوں میں کچھ شگاف ضرور پڑے گا۔

باضابطہ طور پر وزیراعظم بننے کے فوری بعد مودی سب سے پہلے اپنے پڑوسی ملکوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ دونوں وزرائے اعظم کی 27 مئی کو الگ سے بھی ملاقات ہونی ہے اور یہ مستقبل میں مذاکرات کے آغاز کی بنیاد بن سکتی ہے۔

نواز شریف کو امن مذاکرات کے لیے ایک سنجیدہ رہنما تصور کیا جاتا ہے اور مودی اور شریف کی یہ ملاقات دونوں جانب کے سخت گیر عناصر کو بھی کمزور کر سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption 1999 میں اس وقت بھارت میں بی جے پی کے رہنما اور وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی دوستی بس لے کر پاکستان آئے تھے

بھارتی ذرائع ابلاغ میں گذشتہ تین دنوں سے نواز شریف کے ممکنہ دورے کے بارے میں ہر طرح کے بحث ومباحثے کیے جا رہے ہیں۔ حلف برداری کی تقریب میں پاکستان کو شرکت کی دعوت دینے کے مودی کے فیصلے پر سبھی کو حیرت ہوئی ہے۔

مودی نے اپنی حکومت کا آغاز ایک مثبت قدم سے کیا ہے اور رشتوں کے جمود کو توڑنے کی ایک بہترین کوشش کی ہے جسے سفارتی حلقوں میں’ماسٹر سٹروک‘سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

بھارت اور پاکستان میں کسی نہ کسی مرحلے پر باضابطہ مذاکرات دوبارہ شروع ہونے ہی ہیں اور بات چیت کے آغاز کے لیے دونوں حکومتوں کے لیے ایک نکتہ تلاش کرنا اب مشکل نہیں ہوگا۔

دہلی کی ملاقات رشتوں میں کوئی انقلاب تو نہیں لائے گی لیکن یہ موجودہ شکوک و شبہات کے ماحول کو ضرور بدل سکتی ہے۔

سابق سفارت کاروں کا خیال ہے کہ بھارت پاکستان تعلقات دنیا کے انتہائی پیچیدہ اور مشکل سیاسی اور سفارتی چیلنجز میں سے ایک ہے اور کوئی بھی جامع پیش رفت صرف سیاسی سطح پر اور سیاسی عزم سے ہی ممکن ہو سکے گی۔

اسی بارے میں