’نریندر مودی سے ملاقات ایک اہم موقع ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نواز شریف بھارت کے پہلے دورے پر ہیں

پاکستان کے وزیرِاعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ بھارت کے نو منتخب وزیرِاعظم نریندر مودی سے ان کی ملاقات ایک ’اہم موقع ہے اور چونکہ دونوں حکومتوں کو ایک مضبوط مینڈیٹ ملا ہے لہذا وہ باہمی رشتوں میں ایک نئے دور کا آغاز کر سکتی ہیں۔‘

نواز شریف نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے دہلی میں ہیں جسے بھارت میں سیاسی تجزیہ نگار بھی ایک اہم اور مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں رہنماؤں کو آمنے سامنے بیٹھ بات کرنے اور ایک دوسرے کے موقف کو سمجھنے کا موقع ملے گا۔

نواز شریف نے بھارتی ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئِے کہا کہ وہ باہمی تعلقات کو اُسی جگہ سے آگے بڑھانا چاہتے ہیں جہاں وہ سنہ 1999 میں ٹوٹ گئے تھے۔

خیال رہے کہ 1999 میں پاکستان میں نواز شریف اور بھارت میں اٹل بہاری واجپئی کی حکومت تھی۔

تجزیہ نگاروں کی عام رائے ہے کہ اس ملاقات سے زیادہ توقع نہیں رکھی جانی چاہیے کیونکہ دونوں رہنماؤں کی یہ پہلی ملاقات ہوگی اور حلف اٹھانے کے صرف ایک دن کے اندر نریندر مودی کوئی ایسا پیغام نہیں دینا چاہیں گے جس سے ایسا محسوس ہو کہ پاکستان کے ساتھ رشتوں کے تعلق سے وہ اپنے سخت گیر موقف میں نرمی یا لچک لا رہے ہیں۔

نواز شریف نے کہا ’یہ ملاقات ایک دوسرے کی طرف ہاتھ بڑھانے کا اچھا موقع ہے۔ دونوں حکومتوں کو عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی ہے اور اس سے باہمی رشتوں میں ایک نئے باب کا آغاز کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ میں نریندر مودی سے ملاقات کا منتظر ہوں۔‘

پاکستان کے وزیرِاعظم نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کو خطے میں استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ نواز شریف کا بھارت کا پہلا دورہ ہے اور یہاں کا سخت گیر موقف رکھنے والا حلقہ انھیں شک و شبہہ کی نظر سے دیکھتا ہے کیونکہ کارگل کی لڑائی کے وقت وہ پاکستان کے وزیرِاعظم تھے۔

واضخ رہے کہ اٹل بہاری واجپئی اور نواز شریف نے 1999 میں ’اعلانِ لاہور‘ پر دستخط کیے تھے جس کے مطابق دونوں ملکوں نے جوہری جنگ کے خطروں سے بچنے کے طریقوں پر اتفاق کیا تھا لیکن انھی دونوں رہنماؤں کے دور اقتدار میں دونوں نے جوہری آزمائشی دھماکے بھی کیے تھے۔

اسی بارے میں