کشمیر: جنگی طیارہ گر کر تباہ، پائلٹ ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بھارتی فضائیہ کا اہم جنگی دستہ ہونے کے باوجود مگ-21 کو سب سے غیرمحفوظ جنگی طیارہ سمجھا جاتا ہے

بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ مگ 21 منگل کی صبح جنوبی کشمیر میں اونتی پورہ ائیر بیس سے اُڑان بھرتے ہی نزدیکی قصبہ بیج بیہاڑہ میں گر کر تباہ ہوگیا۔

جنوبی کشمیر کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل وجے کمار نے بی بی سی کو بتایا: ’طیارے کا پائلٹ حادثے میں شدید زخمی ہوگیا تھا لیکن ہسپتال پہنچاتے ہوئے ان کی موت ہوگئی۔‘

اطلاعات کے مطابق طیارے میں صرف ایک پائلٹ تھا، اور یہ طیارہ ائیر بیس سے تربیتی پرواز پر نکلا تھا۔ روسی ساخت کا مگ 21 دراصل بھارتی فضائیہ کا اہم ترین لڑاکا طیارہ ہے۔

بھارتی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق پچھلے پچاس سال کے دوران کشمیر سمیت بھارت کے مختلف خطوں میں مگ 21 طیارے 30 سے زائد مرتبہ حادثوں کا شکار ہوگئے ہیں۔ ان حادثوں میں 170 سے زائد بھارتی پائلٹ اور 40 سے زائد عام شہری مارے گئے ہیں۔

گزشتہ برس سرینگر ائرپورٹ کے قریب مگ-21 ایک رہائشی مکان پر گر کر تباہ ہوگیا۔ پائلٹ تو بچ گیا لیکن ایک شہری ہلاک ہوگیا۔ اس سے قبل سنہ 2007 میں جموں کے ریاسی قصبہ میں مگ-21 گرا تو دو پائلٹ مارے گئے۔

بھارتی فضائیہ کا اہم جنگی دستہ ہونے کے باوجود مگ-21 کو سب سے غیرمحفوظ جنگی طیارہ سمجھا جاتا ہے۔ اکثر حادثوں کا شکار ہونے کی وجہ سے اس طیارہ کو فلائنگ کوافن یعنی ’اُڑتا تابوت‘ بھی کہا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی فضائیہ اپنے آس پڑوس میں مگ- 21 کی وجہ سے ہی فضائی دفاع میں بالادستی حاصل ہے۔

دفاعی امور کے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سنہ 1970 کی دہائی کے دوران عراقی ائیرفورس کے اہلکاروں کو مگ -21 چلانے کی تربیت بھارتی ائیرفورس نے ہی دی تھی۔

اسی بارے میں