نواز شریف اور نریندر مودی میں 50 منٹ کی ملاقات

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے کیے جانے والے جامع مذاکرات کا سلسلہ سنہ 2008 میں ممبئی حملوں کے بعد سے رکا ہوا ہے

بھارتی دارالحکومت دہلی کے حیدر آباد ہاؤس میں بھارت کے نومنتخب وزیراعظم نریندر مودی اور پاکستانی وزیرِ اعظم نواز شریف کے درمیان بات چیت ختم ہو گئی ہے۔

یہ بات چیت مقررہ 35 منٹ سے تجاوز کرتے ہوئے پچاس منٹ سے زیادہ دیر تک چلی۔

بات چیت میں سرتاج عزیز بھی شریک ہوئے۔ بھارت کی جانب سے وزیر خارجہ سشما سوراج اور خارجہ سیکریٹری سجاتا سنگھ شریک ہوئیں۔ بات چیت کے بعد کوئی بیان نہیں جاری کیا گیا ہے ۔

وزیراعظم نواز شریف پاکستان روانہ ہونے سے پہلے میڈیا سے خطاب کر سکتے ہیں۔

بھارت کی نئی حکومت اور پاکستان سے تعلقات

بھارتی وزیرِ اعظم کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے صدر پرنب مکھرجی اور بی جے پی کے رہنما اٹل بہاری واجپئی سے ملاقات کی ہے۔

بات چیت کی تفصیلات تو نہیں آئی ہیں لیکن بھارتی میڈیا میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات کو ’نئی شروعات‘ اور ’مثبت آغاز‘ قرار دیا جا رہا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق بات چیت میں دہشت گردی کا مسئلہ ایک اہم موضوع تھا۔

ملاقات سے قبل نواز شریف نے کہا تھا کہ دونوں حکومتیں باہمی رشتوں میں ایک نئے دور کا آغاز کر سکتی ہیں۔

نواز شریف نے پیر کو نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی۔

اس کے علاوہ انھوں نے دہلی کی تاریخی جامع مسجد اور لال قلعے کا دورہ کیا۔

نواز شریف نے بھارتی ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کی برکھا دت سے بات کرتے ہوئِے کہا کہ وہ باہمی تعلقات کو اُسی جگہ سے آگے بڑھانا چاہتے ہیں جہاں وہ سنہ 1999 میں ٹوٹ گئے تھے۔

خیال رہے کہ سنہ 1999 میں پاکستان میں نواز شریف اور بھارت میں اٹل بہاری واجپئی کی حکومت تھی۔

پاکستان کے وزیرِاعظم نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کو خطے میں استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

نواز شریف نے کہا کہ کسی بھی دو ممالک کے درمیان اتنی تاریخی اور ثقافتی مماثلت نہیں ہے جتنا پاکستان اور بھارت کے درمیان ہے، کیوں نہ اس مماثلت کو اپنا طاقت بنائیں۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کے بارے میں خدشات، بداعتمادی اور شکوک و شبہات کو ختم کرنا چاہیے۔

پاکستان کے وزیرِاعظم نے کہا کہ ہمیں اس خطے کو عدم استحکام اور سکیورٹی خدشات سے نکالنا چاہیے۔

وزیراعظم نواز شریف نے گذشتہ سال اقتدار میں آنے کے فوراً بعد بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا عندیہ دیا تھا اور کچھ عرصہ قبل وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے بھارت کے دورے کے موقعے پر کہا تھا کہ وہ نریندر مودی کے ساتھ کام کرنے پر تیار ہیں۔

انھوں نے کہا تھا کہ بھارت میں نئی حکومت کی تشکیل کے بعد ہی دونوں ممالک میں جامع مذاکرات شروع کرنے پر کوئی پیش رفت ہو سکے گی۔

یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے کیے جانے والے جامع مذاکرات کا سلسلہ سنہ 2008 میں ممبئی حملوں کے بعد سے رکا ہوا ہے۔

اسی بارے میں