بھارت: معطل آئی پی ایس افسر کی بحالی پر ملا جلا رد عمل

تصویر کے کاپی رائٹ ANKUR JAIN
Image caption گریش ایل سنگھل کے علاوہ متعدد پولیس اہلکار کے خلاف عشرت جہاں انکاؤنٹر معاملے میں جانچ جاری ہے

بھارت کی مغربی ریاست گجرات میں سنہ 2004 میں ہونے والے متنازعہ عشرت جہاں ’فرضی انکاؤنٹر‘ معاملے میں معطل ملزم آئی پی ایس افسر جي ایل سنگھل کو ریاستی حکومت نے ان کے عہدے پر پھر سے بحال کر دیا ہے۔

ان کی بحالی پر بھارتی پولیس سروس کے کئی سینئر افسروں کی جانب سے ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔ بعض معطلی ختم کرنے کی حمایت نہیں کرتے جبکہ کچھ افسروں کا خیال ہے کہ کسی بھی سرکاری ملازم یا افسر کو طویل عرصے تک معطل نہیں رکھا جا سکتا ہے۔

انھیں بھارتی تفتیشی ادارے سی بی آئی نے گذشتہ سال حراست میں لیا تھا لیکن 90 دنوں میں ان کے خلاف فرد جرم داخل نہ کیے جانے کی وجہ سے انھیں ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔

تاہم ان کے علاوہ 21 پولیس اہلکاروں پر ’عشرت جہاں انکاؤنٹر‘ کی سازش کا الزام ہے اور یہ معاملہ ابھی سی بی آئی کی عدالت میں زیر غور ہے۔

بی بی سی کے نمائندے سلمان راوی نے بعض سینیئر پولیس حکام سے بات کی۔ ممبئی کے سابق پولیس کمشنر جولیو ایف ریبیریو کا کہنا تھا کہ ’ایسا پہلے نہیں ہوتا تھا، کوئی پولیس افسر اگر کسی مجرمانہ معاملے میں ملزم بنایا گیا ہو اور جیل گیا ہو تو اس کی معطلی اس وقت تک ختم نہیں ہوتی تھی جب تک کہ وہ عدالت سے بری نہ ہو جائے۔ یہ نیا چلن دیکھ رہا ہوں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ایسا اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک آپ قوانین میں تبدیلی نہیں لاتے۔ مجھے لگتا ہے کہ قوانین کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اگر آپ گرفتار کیے جاتے ہیں یا جیل جاتے ہیں تو پھر اپنے عہدے پر کیسے بحال ہو سکتے ہیں؟‘

’میں نے گجرات کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ہوم) کا وہ خط پڑھا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ایسا قانون کے مطابق کیا گیا ہے۔ مجھے یہ پتہ نہیں کہ ایس نندا کس قانون کا حوالہ دے رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’تمام سرکاری محکموں کے ملازمین کے لیے سروس کے دستور العمل میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اگر کسی سرکاری ملازم کو کسی مجرمانہ معاملے میں پکڑا جاتا ہے تو اس وقت تک ان کو بحال نہیں کیا جا سکتا جب تک عدالت انھیں بے قصور نہ قرار دے۔ ضمانت پر جیل سے باہر آنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انہیں بری کر دیا گیا ہے۔‘

وہیں اتر پردیش کے سابق ڈی جی پی پرکاش سنگھ کا کہنا ہے کہ ’معطل کیا جانا کوئی سزا نہیں ہے۔ دیکھیے، بعض اوقات سرکاری ملازم کو معطل کیا جاتا ہے تاکہ بغیر کسی دباؤ کے تفتیش پوری کی جا سکے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption سی بی آئی نے اپنی چارج شیٹ میں کہا ہے کہ عشرت جہاں اور تین دیگر افراد کو فرضی مقابلے میں مارا گیا

انھوں نے کہا کہ ’عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اگر کسی افسر کی معطلی کو ایک عرصہ ہو گیا ہے تو ان کو بحال کیا جا سکتا ہے۔ محکمہ جاتی کارروائی تو پھر بھی جاری رکھی جا سکتی ہے۔ یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ کسی ملازم کو ایک سال یا دو سال تک معطل نہیں رکھا جا سکتا ہے۔ اسے درست نہیں سمجھا جاتا ہے۔‘

ان کے خیال میں ’افسران اپنا کام کرتے رہیں اور اس کے خلاف جاری جانچ بھی چلتی رہے۔ پھر جانچ کے بعد جو سزا مقرر ہو، وہ ملے۔

’اگر یہ اندیشہ رہتا ہے کہ بحال ہونے سے جانچ متاثر ہو سکتی ہے تو پھر بحال نہیں کیا جانا چاہیے۔ سنگھل کے معاملے میں یہ سب کیا سوچ کر کیا گیا اس کا تو مجھے علم نہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ وہ طویل عرصے سے معطل تھے اس لیے ایسا کیا گیا ہوگا۔‘

دہلی کے سابق پولیس کمشنر وید مارواہ نے اس معاملے پر کہا کہ ’کمال کی بات ہے کہ جي ایل سنگھل تو حکومت کے خلاف ہو گئے تھے۔ جہاں تک میری معلومات ہے انھوں نے تفتیش کے دوران کئی اہم ثبوت حکومت کے خلاف تفتیش کاروں کو فراہم کیے تھے۔ میں نے اخبار میں پڑھا ہے کہ سنگھل نے تو نریندر مودی اور امت شاہ تک کے خلاف ثبوت فراہم کیے۔ سچ کیا ہے مجھے علم نہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’لیکن ہر معاملے کو اس کے مخصوص پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ ہر معاملے میں جس کی جانچ چل رہی ہو اس افسر یا ملازم کو معطل ہی کر دینا چاہیے۔ البتہ اگر سزا سنا دی جائے تو پھر نوکری سے نکالنے کا عمل شروع کر دینا چاہیے۔‘

اسی بارے میں