بدایوں ریپ کا واقعہ خوفناک تھا: اقوامِ متحدہ

بان کی مون تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ملک کے قانون کے تحت ہر شہری کو تحفظ ملنا چاہئیے: اقوامِ متحدہ

اقوام متحدہ نے بھارتی ریاست اتر پردیش کے بدایوں ضلعے میں دو بہنوں کے ریپ اور پھر قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ایک ’خوفناک واقعہ‘ کہا ہے۔

اقوام متحدہ نے زور دے کر کہا ہے کہ ملک کے قانون کے تحت تمام شہریوں کی حفاظت ہونی چاہیے۔

بھارت میں اقوام متحدہ كي ریزيڈنٹ كوآرڈنیٹر لیز گرینڈ نے کہا: ’دونوں لڑکیوں کے رشتے داروں اور ’’نچلی ذات‘‘ کی ان تمام خواتین اور لڑکیوں کو انصاف ملنا چاہیے جو دیہی بھارت میں جنسی زیادتی اور ریپ کی شکار ہوتی ہیں کیونکہ خواتین کے خلاف تشدد صرف خواتین کا مسئلہ نہیں ہے، یہ انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’دہلی میں دسمبر 2012 میں ایک لڑکی کے اجتماعی ریپ اور قتل کے بعد کئی تبدیلیاں اور اقدامات کیے گئے اور جسٹس ورما کمیٹی کی تاریخی رپورٹ آئی، لیکن قانون بنانا مسئلے کے حل کا صرف ایک حصہ ہے، اس کا سختی سے اطلاق ہونا بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ سوچ میں تبدیلی بھی اتنی ہی اہم ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس واقعے کے خلاف لوگوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے

گذشتہ بدھ کو اترپردیش کے بدایوں ضلعے میں پسماندہ طبقے کی دو لڑکیوں کی لاشیں درخت سے لٹکی پائی گئی تھیں۔ دونوں لڑکیاں رشتے میں بہنیں تھیں اور ان کا ریپ کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق دونوں لڑکیاں گذشتہ منگل کو ضلعی ہیڈکوارٹر سے 42 کلومیٹر دور كٹرا شہادت گنج گاؤں سے غائب ہوئی تھیں۔ ان میں سے ایک کی عمر 14 سال اور دوسری کی عمر 16 سال تھی۔

بدایوں کے سینیئر پولیس اہلکار اتل سکسینہ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ریپ کی تصدیق ہوئی ہے اور اس میں موت کا سبب پھانسی بتایا گیا ہے۔

اس واردات میں پولیس کو جن پانچ لوگوں کی تلاش تھی، ان سب کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق گذشتہ اتوار کو گرفتار کیے گئے پانچ افراد میں سے دو نے اقبالِ جرم کر لیا ہے۔

اسی بارے میں