بھارتی پنجاب کے ہزاروں افراد لاپتہ

ستونت سنگھ مانک تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سابق پولیس مین ستونت سنگھ مانک (بائیں) جو اب اپنے عزیزوں کے ساتھ اپنے اُن عزیزوں کے لیے انصاف طلب کرنے کے لیے عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ انھیں ان کے سابق ساتھیوں نے ہلاک کیا

سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل پر بھارتی فوج کے حملے کو 30 برس گزر چکے ہیں۔

اس حملے کے نتیجے میں بہت سے لوگ ہلاک اور سینکڑوں ایسے لاپتہ ہوئے کہ اب تک ان کی کوئی خبر نہیں ملی۔

لاپتہ ہونے والے ان لوگوں کے عزیز رشتے دار اب محسوس کرتے ہیں کہ ان کے عزیزوں نے جس مقصد کے لیے جان دی تھی وہ فراموش ہو چکا ہے۔

بی بی سی کے جستندر کھیرانہ نے امرتسر سے بھیجی جانے والی رپورٹ میں ستونت سنگھ مانک سے بات کی، تب وہ خود بھی پولیس میں تھے۔

ستونت مانک کا کہنا ہے کہ انھوں نے 15 لوگوں کو اپنے ساتھیوں کے ہاتھوں مرتے دیکھا۔ یہی وجہ تھی کہ انھوں نے پولیس کی نوکری سے منھ موڑ لیا۔

ان کے نوجوان بھائی کلونت سنگھ کانتا کے بارے میں ایک ہمسائے الزام لگایا تھا کہ وہ شدت پسندوں میں شامل ہو گیا ہے۔ اس پر پولیس نے کانتا کو اپریل 1992 میں حراست میں لیا۔

مانک بتاتے ہیں: ’تین دن تک اُس پر تشدد ہوتا رہا۔ پھر اُسے دوسرے ملزموں کے ساتھ نہر پر لے جا کر مار دیا گیا اور لاش نہر میں پھینک دی گئی۔‘

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں کا کہنا ہے کہ سکھ شدت پسندوں نے بھی ضرور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کیں لیکن سکیورٹی فورس کے ہاتھوں ہزاروں سکھ لاپتہ ہوئے۔

مانک بتاتے ہیں کہ انھوں نے جو ہلاکتیں دیکھیں ان میں ’جعلی مقابلوں‘ کا طریقہ استعمال کیا گیا۔ یہ پولیس کا طریقہ ہے کہ وہ زیر حراست ملزموں کو مار دیتی ہے اور دعویٰ کرتی ہے کہ وہ پولیس سے مقابلہ کرتے ہوئے مارے گئے۔

مانک نے کلونت سنگھ کی ہلاکت کے بعد پولیس چھوڑی اور اُس کی موت کے ذمے داروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کی۔ ان کی دیکھا دیکھی دس اور خاندان بھی ان کی درخواست میں شامل ہو گئے۔

مانک بتاتے ہیں کہ جب انھوں نے قانونی چارہ جوئی شروع تو انھیں بھی حراست میں لیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کے والد کی موت بھی تفتیشی طریقوں کے نتیجے ہی میں ہوئی۔

2008 میں پنجاب ہائی کورٹ نے ان کی درخواست پر ہلاکتوں کی تحقیقات کا حکم دیا۔ لیکن کچھ عرصے بعد اسی عدالت کے کچھ اور ججوں نے ملزم افسروں کی درخواست منظور کرتے ہوئے مانک کو دو ہزار روپے فی کس ادا کرنے کا حکم دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل میں ایک میوزیم ہے جس میں ان سکھوں کی تصویریں لگی ہیں جو فوجی کارروائی کا نشانہ بنے لیکن اکثر لاپتہ ہونے والے ان میں شامل نہیں ہیں

مانک اب اپنے مقدمے کو سپریم کورٹ لے جا رہے ہیں لیکن اب تک کی چارہ جوئی میں ان کی کچھ زمین اور گھر بک چکا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ بیرون ملک رہنے والے سکھوں نے ان کی زیادہ مدد کی ہے۔

مانک کی مدد کرنے والوں میں انصاف (پنجابی فار جسٹس) بھی شامل ہے اور اس کی جسکران کور کا کہنا ہے کہ ’جو لوگ تب کی زیادتیوں کو بھولنے اور آگے بڑھنے کی بات کرتے ہیں، زیادہ تر وہ ہیں جو اس وقت سے براہِ راست متاثر نہیں ہوئے۔‘

وہ کہتی ہیں ’ایسے ملزمان بھی ہیں جو اب افسر ہیں اور اپنے عہدوں پر بیٹھے ہیں جب کہ بہت سے گواہوں نے ہراساں کیے جانے کی شکایتیں بھی کی ہیں۔ لیکن ہم لوگ، جو باہر رہتے ہیں، ان کے ڈر کے دائرے سے باہر ہیں۔‘

ایک گاؤں جس کے لوگ ان برسوں کو اب تک نہیں بھولے ’سنگنا‘ ہے جو امرتسر کے نواح میں آباد ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کشمیر کور کہتی ہے کہ پہلے تو بچے باپ کے بارے میں پوچھتے تھے اور اب پوتے پوتیاں دادا کے بارے میں پوچھتے ہیں۔

پہلی نظر میں یہ ایک عام سا پنجابی گاؤں دکھائی دیتا ہے۔ داخل ہوتے ہی پرندوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں اور کھیلتے کودتے بچے دکھائی دیتے ہیں لیکن کوئی چیز ہے جس کی کمی ہر جگہ محسوس ہوتی ہے۔

گاؤں کے نرم گفتار کھاجن سنگھ بتاتے ہیں کہ ان کے بھائی سکھدیو سنگھ 1989 سے لاپتہ ہیں۔ انھیں امرتسر جاتے ہوئے ایک ناکے پر بس سے اتارا گیا تھا۔

کھاجن کا خیال ہے کہ سکھدیو کسی بھی طرح شدت پسندی کی کسی سرگرمی میں شامل نہیں تھے شاید اُن کی کیسری پگڑی ان کی گرفتاری کا سبب بنی ہو گی۔ زیادہ تر مذہبی سکھ زرد کیسری پگڑی باندھتے ہیں۔

سکھدیو گھر چلاتا تھا، اس کے لاپتہ ہونے نے گھر کا نقشہ ہی بدل دیا۔ ان کی بہت سی زمین بک گئی اور کھاجن اور ان کے دوسرے بھائیوں کو سکول چھوڑ کر کام پر لگنا پڑا۔

یہیں کشمیر کور کا گھر ہے جن کے شوہر سرجیت سنگھ کو 1992 کی ایک صبح دو پولیس والے رستہ پوچھنے کے لیے لے گئے اور بعد میں اس کا نام ان لوگوں کی فہرست میں دیکھا گیا جن کی چتاؤں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ 2006 میں انھیں غیر قانونی طور جلایا گیا۔

کشمیر کور کہتی ہے کہ پہلے تو بچے باپ کے بارے میں پوچھتے تھے اور اب پوتے پوتیاں دادا نانا کے بارے میں پوچھتے ہیں۔

لاپتہ ہونے والوں کے عزیز صرف ایک بات کہتے ہیں ’ہمیں انصاف چاہیے۔‘ لیکن گمشدیوں کی یہ وراثت کم سے کم ہوتی جا رہی ہے اور شاید وہ نسل دور نہیں جو اس معاملے کو بالکل بھول چکی ہو گی یا یہ معاملہ اُس کے لیے اتنی دور کی بات ہو گا کہ انھیں بے چین نہیں کرے گا۔

اسی بارے میں