عبداللہ عبداللہ خودکش حملے میں بال بال بچ گئے

افغانستان تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عبداللہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں ان کے کچھ محافظ بھی ہیں

افغانستان میں صدارتی الیکشن کے اہم امیدوار عبداللہ عبداللہ کابل میں اپنے قافلے پر ہونے والے خودکش بم دھماکے میں بال بال بچ گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جلسے میں ہونے والے اس دھماکے میں دو شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

عبداللہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں ان کے کچھ محافظ بھی شامل ہیں۔ انھوں نے حملے کے فوراً بعد ٹی وی پر آ کر اپنے حامیوں کو یقین دہانی کرائی کہ وہ بالکل صحیح سلامت ہیں۔

دوسرے مرحلے کے صدارتی انتخابات اگلے ہفتے ہونا ہیں۔

ابھی تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم طالبان کئی مرتبہ اس انتخابی مہم کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس الیکشن میں عبداللہ عبداللہ کے حریف اشرف غنی نے اس حملے کی مذمت کی ہے

کابل پولیس کے ترجمان نے بی بی سی کے نامہ نگار بِلال سروری کو بتایا کہ پہلا خود کش دھماکہ ایک کار میں کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق دوسرا غالباً ایک دستی بم تھا، تاہم مزید تفصیلات ابھی پوری طرح سامنے نہیں آئی ہیں۔

شادی ہال میں یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب عبداللہ عبداللہ وہاں ہونے والی ریلی ختم کرنے کے بعد روانہ ہو رہے تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکوں کے بعد لوگوں میں گھبراہٹ اور افراتفری مچ گئی۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حملے میں عبداللہ عبداللہ اور ان کے ساتھی بال بال بچے ہیں۔

عبداللہ عبداللہ نےٹی وی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ وہ بچ گئے اور ان کے محافظ بھی شدید زخمی نہیں ہوئے۔

اس الیکشن میں عبداللہ عبداللہ کے حریف اشرف غنی نے اس حملے کی مذمت کی ہے۔

دوسرے مرحلے کے صدارتی انتخابات 14 جون کو ہونا ہیں۔

اسی بارے میں