گرمی اور بجلی کی بندش، بھارت میں شدید احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بھارت اور پاکستان کے کئی علاقے ان دنوں شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں

بھارت میں شدید گرمی کے موسم میں بجلی کی ترسیل منقطع ہونے ہر ہزاروں لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے ایک سب سٹیشن کو آگ لگا دی ہے اور عملے کے ارکان کو یرغمال بنا لیا ہے۔

بھارت کی ریاست اترپردیش کو اپنی بیس کروڑ آبادی کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے میں ہمیشہ سے کمی کا سامنا رہا ہے اور عام حالات میں بہت سے علاقوں کو چند گھنٹے ہی بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ ریاست کے 63 فیصد گھروں کو بجلی کی سہولت میسر نہیں ہے۔

حالیہ دنوں میں جب کئی علاقوں میں درجہ حرارت 47 ۔ڈگری تک پہنچ گیا ہے بجلی کی طلب میں گیارہ ہزار میگا واٹ کا اضافہ ہوگیا ہے جب کے ریاست کی بجلی کی پیداواری صلاحیت صرف آٹھ ہزار میگا واٹ ہے۔ پیداوار اور مانگ میں فرق کی وجہ سے بہت سے علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہے اور ان علاقوں میں پانی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔

ریاست کے بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے ایک اہل کار نندرا ناتھ ملک نے بتایا کہ جمعہ کے روز لکھنو میں بجلی کی بندش اور گرمی سے پریشان لوگوں نے ایک سب سٹیشن پر ہلہ بول دیا۔ مشتعل افراد نے سب سٹیشن میں توڑ پھوڑ کی جس کے بعد اس کو نذر آتش کر دیا گیا۔ مظاہرین نے عملے کے ارکان کو بھی اٹھارہ گھنٹوں تک یرغمال بنائے رکھا جنہیں پولیس نے ہفتے کی صبح بازیاب کرایا۔

لکھنو سے ایک سو اسی کلو میٹر جنوب میں واقع گونڈا قصبے میں بھی لوگوں نے ایک سب سٹیشن کو آگ لگا دی۔ آگ بجھانے والا عملہ کئی گھنٹوں کی محنت کے بعد آگ پر قابو پا سکا جس میں املاک کو نقصان پہنچا۔ لکھنو سے320 کلو میٹر دور گورکھ پور میں بھی ایک سب سٹیشن کو آگ لگا دی گئی۔

اتر پردیش کے وزیر اعلی اکلیش یادیو نے کہا ہے کہ ریاستی کی سرکار دوسری ریاستوں سے بجلی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن شدید موسم کی وجہ سے دوسری ریاستوں کو بھی بجلی کی کمی کا سامنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ گھروں سے نہ نکلیں اور مشروبات کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں

ان واقعات کے بعد بہت سے علاقوں میں بجلی کی فراہمی بحال کر دی گئی اور مشتعل افرادہ اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔

بھارت میں حالیہ انتخابات کے دوران بہت سے علاقوں میں بغیر کسی خلل کے بجلی کی فراہمی جاری رہی لیکن انتخابات کے ختم ہونے کے بعد بہت سے علاقوں میں بجلی کی فراہمی خلل کا شکار ہوگئی اور کئی علاقوں میں بجلی مکمل طور پر بند ہو گئی۔

الہ آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست کی سماعت کی جاری رہی ہے جس میں کچھ علاقوں سے امتیازی سلوک برتنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

جن علاقوں کو بغیر کسی خلل کے بجلی فراہمی کی جا رہی ہے ان میں وزیر اعظم نریندر مودی کا حلقہ انتخاب ورانسی بھی شامل ہے۔

ماہرین موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق آئندہ چند دنوں میں اتر پردیش کے بیشتر علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں رہیں گے جن گجرات، دہلی اور ریاست کے شمالی علاقے شامل ہیں۔ انھوں نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ گھروں سے بلا ضرورت باہر نکلنے سے اجتناب کریں۔

اسی بارے میں