’جان بوجھ کر کوئی ریپ نہیں کرتا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بدایوں میں ریپ کے واقعے پر شدید احتجاج کیا گیا تھا

ہندوستان کی شمالی ریاست اتر پردیش کے بدایوں ضلعے میں دو کمسن لڑکیوں کے ریپ اور قتل کے بعد چھتیس گڑھ کے وزیر داخلہ نے یہ انکشاف کیا ہے کہ جان بوجھ کر کوئی ریپ نہیں کرتا، یہ دھوکے سے ہوجاتا ہے۔

بدایوں میں ان بچیوں کی لاشیں ایک پیڑ سے لٹکی ہوئی ملی تھیں۔ ریپ دانستہ طور پر کیا جاتا ہے یا دھوکے سے یہ تو معلوم نہیں لیکن اتنا وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ لاشیں نہ دھوکے سے پیڑ پر پہنچتی ہیں اور نہ اپنی مرضی سے۔

وزیر داخلہ کو اس بات کا ضرور علم ہوگا، یا اب تک فورینسک کے کسی ماہر نے انھیں بتا دیا ہوگا۔ اور شاید وہ جلدی ہی یہ وضاحت بھی جاری کر دیں گے کہ ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ لیکن اس کشتی میں وہ اکیلے سوار نہیں ہیں۔

چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر رمن سنگھ ان سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں، ہونا بھی چاہیے، وہ وزیر اعلیٰ جو ہیں۔ دو سال پہلے ڈاکٹر سنگھ نے کہا تھا کہ اگر بیٹا کوئی جرم کرے تو سزا باپ کو دی جانی چاہیے کیونکہ بیٹے کو اپنا خون، ڈی این اے اور کردار اپنے باپ سے ہی وراثت میں ملتا ہے۔

تجویز تو دلچسپ تھی، معلوم نہیں کہ اس پر عمل کیوں نہیں کیا جاسکا۔ اور بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا تو کم سے کم آبادی پر کنٹرول ضرور ہو جاتا، لوگ اس خوف سے ہی بچے پیدا کرنےسے ڈرنے لگتے کہ کہیں وہ دھوکے سے غلط راستے پر نہ چل پڑیں۔

اور سیاست دانوں کی جواب دہی اور انھیں سزا دینے کا بھی ایک غیر معمولی راستہ کھل سکتا تھا۔ اگر کوئی منتخب سیاسی رہنما جرم کرتا تو اس کے انتخابی حلقےمیں ووٹروں کو فوراً سخت سزا دی جا سکتی تھی۔ نہ لوگ اسے ووٹ دیتے، نہ اختیارات ملتے، نہ وہ کوئی جرم کر پاتا۔

نہ معلوم کیوں جب بھی ریپ کا ذکر ہوتا ہے تو سیاست دان عجیب و غریب بیان دینا شروع کر دیتے ہیں۔ اترپردیش کے وزیراعلیٰ اکھیلیش یادو نے کہا کہ ریپ کے بدایوں جیسے واقعات صرف یو پی میں ہی نہیں ہوتے، آپ گوگل میں سرچ کر کے دیکھیے، ایسے کیس آپ کو مدھیہ پردیش میں بھی مل جائیں گے۔ شاید اسی لیے اکھیلیش یادو کی دور اندیش حکومت نے نوجوان طلبہ اور طالبات کو مفت لیپ ٹاپ دینے کی سکیم شروع کی تھی تاکہ وہ گھر بیٹھے کم سے کم گوگل سرچ تو کر ہی سکتے ہیں۔ جب انھیں معلوم ہوگا کہ دوسری ریاستوں میں بھی حالات زیادہ مختلف نہیں ہیں، تو ہو سکتا ہے کہ انھیں کچھ سکون ملے۔

اکھیلیش یادو نے مدھیہ پردیش کا ذکر کیا، تو وہاں کیا حالات ہیں۔ ریاست کے وزیر داخلہ بابو لال گوڑ کا کہنا ہے کہ ریپ کو روکا نہیں جا سکتا کیونکہ ریپ کرنے والا بتا کر ریپ نہیں کرتا۔

مدھیہ پردیش میں شاید باقی تمام جرم وزارتِ داخلہ کو تحریری اطلاع دینے کے بعد کیے جاتے ہیں۔ اگر ریپ کو روکا نہیں جا سکتا تو لڑکیوں کو کیا کرنا چاہیے؟ بابو لال گوڑبزرگ رہنما ہیں، ان کے پاس ہر سوال کا جواب ہے۔ ان کےخیال میں لڑکیوں کوجوڈو کراٹے سیکھنا چاہیے۔

جس ملک میں آدھی سے زیادہ آبادی کو ٹائلٹ کی سہولت دستیاب نہ ہو اور 50 فیصد سے زیادہ بچوں کو پوری کھانا نہ ملتا ہو وہاں تیس چالیس کروڑ لڑکیوں کو جوڈو کراٹے سکھانے سے نسبتاً آسان شاید یہ ہوگا کہ جو لوگ غلطی سے ریپ کرنےکی تیاری میں ہوں، انھیں یہ واضح پیغام دیا جائے کہ ریپ کو بھلے ہی روکا نہ جا سکتا ہو لیکن اس کے بعد بخشا بھی نہیں جائے گا اور سزا باپ کو نہیں آپ کو ہی ملے گی۔

لیکن سب سیاست دان کہاں یہ ماننے والے ہیں۔ اکھیلیش یادو کے والد ملائم سنگھ یادو کو ہی لیجیے۔ وہ خود تین مرتبہ یو پی کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔ چند ماہ قبل انتخابی مہم کے دوران انھوں نے اجتماعی ریپ کے نئے سخت قانون کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’ارے لڑکے ہیں، غلطی ہو جاتی ہے، آپ ریپ کے لیے پھانسی کی سزا دیں گے کیا۔۔۔؟‘

لیکن ملائم سنگھ یادو نے یہ نہیں بتایا کہ ہندوستان میں ہر 21 منٹ میں ان غلطیوں کا شکار بننے والی لڑکیوں کو گوگل سرچ کے علاوہ اور کیا کرنا چاہیے؟

اسی بارے میں