رہا ہونے والے پانچ طالبان کمانڈر میڈیا سے دور

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کہا جا رہا ہے کہ امریکہ کو یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ یہ کمانڈر ایک سال تک افغانستان نہیں جا سکیں گے

امریکی فوجی کی رہائی کے بدلے میں گوانتانامو بے سے رہا کیے گئے پانچ سینیئر طالبان کمانڈرز کو دوحہ میں رکھا گیا ہے اور فیصلہ یہ کیا گیا ہے کہ ان کو میڈیا سے دور رکھا جائے۔

یہ پانچ کمانڈر ابھی تک اپنی رہائش گاہوں میں منتقل نہیں ہوئے اور اب بھی ایک محفوظ مقام پر ہیں۔

قطر کے حکام کے لیے میڈیا سے بات کرنے کی اجازت سے زیادہ اہم ان کی دیکھ بھال اور ان کے اہلِ خانہ کو قطر لانا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 12 سال قید اور اس کا بیشتر حصہ قیدِ تنہائی میں گزارنے کے بعد وہ ذہنی طور پر کسی سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

رہا ہونے والوں میں سے ایک طالبان انٹیلی جنس کے نائب سربراہ عبدالحق واثق ہیں جنھوں نے ذرائع کو بتایا کہ ان کو لوگوں کو پہچاننے میں دقت ہو رہی ہے۔

رہا ہونے والوں رہنماؤں کا خدشہ ہے کہ ان کو گوانتانامو واپس نہ بھیج دیا جائے۔

قطر میں ان کمانڈروں کے قیام کے بارے میں سمجھوتے کی تفصیلات تو معلوم نہیں لیکن یہ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ کو یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ یہ کمانڈر ایک سال تک افغانستان نہیں جا سکیں گے۔

رہا ہونے والے کمانڈرز

  • محمد فضل: امریکہ کے افغانستان حملے کے دوران نائب وزیر دفاع تھے۔ ان پر شیعہ مسلمانوں اور پشتونوں اور تاجک برادری کے ہزاروں افراد کے قتل کا الزام ہے۔
  • خیر اللہ خیرخواہ: طالبان حکومت میں وزیر داخلہ اور ہرات کے گورنر
  • عبدالحق واثق: انٹیلی جنس کے نائب سربراہ۔ کہا جاتا ہے کہ دیگر اسلامی گروہوں کے ساتھ اتحاد بنانے میں ان کا اہم کردار تھا۔
  • ملا نور اللہ نوری: سینیئر فوجی کمانڈر اور گورنر۔ ان پر بھی شیعہ مسلمانوں کو قتل کرنے کا الزام ہے۔
  • محمد نبی عمری: مبینہ طور پر امریکی اور اتحادی افواج پر حملوں میں ملوث اور حقانی نیٹ ورک کے ساتھ قریبی مراسم ہیں۔

طالبان ان کمانڈروں کے بارے میں اتنے ہی محتاط ہیں جتنے کہ امریکی سارجنٹ بو برگڈال کے بارے میں ہیں۔ امریکہ نے ابھی تک سارجنٹ بو برگڈال کو میڈیا سے دور رکھا ہے اور اسی طرح طالبان بھی اپنے کمانڈروں کو میڈیا سے دور رکھے ہوئے ہیں۔

کابل چاہتا ہے کہ افغانستان ہی میں موجود طالبان کے ساتھ براہ راست بات چیت کی جائے بہ نسبت دوحہ میں موجود طالبان کے۔ اسی لیے وہ کابل میں حکومتی سکیورٹی میں موجود آغا معتصم جان سے مذاکرات کے حق میں ہیں۔

رہا ہونے والے پانچ سینیئر کمانڈروں کو طالبان حکومت گرنے کے فوری بعد 2001 میں گرفتار کیا گیا تھا۔

افغان اینیلسٹ نیٹ ورک (اے اے این) کے مطابق ان پانچ میں سے چند کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ نئی حکومت سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

دو سینیئر کمانڈر مفاہمت کے لیے مذاکرات کے لیے پہنچے لیکن ان کو گرفتار کر کے گوانتانامو بھیج دیا گیا۔

اے اے این کی کیٹ کلارک کا کہنا ہے کہ ان کمانڈروں میں سے محمد فضل ایسے ہیں جن کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات کی جانی چاہییں۔

اسی بارے میں