بھارت میں لڑکیوں کو پھانسی کیوں دی جا رہی ہے؟

Image caption لڑکی کا خاندان پسماندہ ذاتوں میں سے ایک یادو ذات سے ہے

بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر مراد آباد سے ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر تقریباً دو گھنٹے کا طویل اور مشکل سفر طے کرنے کے بعد ہمیں راضی پور ملكھ گاؤں مل گیا۔

گاؤں میں داخل ہوئے تو بغیر پوچھے ہی گاؤں والے اس گھر کا پتہ بتانے لگے جس کی لڑکی کی لاش دو روز قبل درخت سے جھولتي ہوئی پائی گئی تھی۔

وہاں پہنچے تو ایک عجیب طرح کی خاموشی چھائی تھی۔ پورا گاؤں جمع ہوگیا لیکن آوازیں صرف بھینسوں اور چڑیوں کی ہی سنائی دے رہی تھیں۔

جہاں ایک لڑکی کی لاش درخت سے لٹکی ہوئے ملے وہاں اتنی خاموشی یا تو صدمے کی وجہ سے ہو سکتی ہے یا پھر کوئی راز کی بات دبائی جا رہی ہوگی۔

بس لڑکی کے ماں باپ ہی تھے، جو بات کرنے کو تیار نظر آئے۔ لڑکی کے والد نے بتایا: ’میں نے کچھ نہیں دیکھا، نہ ہی کچھ سنا، میں تو یہاں تھا ہی نہیں، معلوم ہوا کہ بیٹی کے ساتھ ایسا ہو گیا ہے تو دوڑا چلا آیا۔‘

ٹھیک یہی بات لڑکی کی ماں نے بھی بتائی۔ حال میں ہی لڑکی کی نانی فوت ہوگئی تھیں اور سارا خاندان تقریباً 12 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ان کے گاؤں گیا ہوا تھا۔ جب یہ حادثہ ہوا تو گھر میں بیٹی، اس کی دادی اور چچا ہی تھے۔

بار بار پوچھنے پر بھی والدین نے یہی کہا کہ انھیں کسی پر کوئی شک نہیں، خاندان کی کوئی پرانی دشمنی نہیں اور بیٹی کے ساتھ ایسا ہونے کی انھیں کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔

گاؤں والے چپ چاپ سب سنتے رہے۔ کسی سے کچھ پوچھا تو بھی یہی جواب ملا کہ انھوں نے نہ کچھ دیکھا اور نہ ہی کچھ سنا۔

پھر ہم نے کچھ لوگوں کو ساتھ لیا اور گاؤں کے مندر کے پاس چلے گئے، جہاں ایک درخت پر لڑکی کی لاش لٹکی ہوئی ملی تھی۔

لڑکی کا خاندان پسماندہ ذاتوں میں سے ایک یادو ذات سے ہے۔ گاؤں میں جاٹ اور مسلم کمیونٹی سمیت کئی دیگر برادریوں کے لوگ بھی رہتے ہیں۔

اس خاندان کا مکان گاؤں کے باقی گھروں سے بڑا دکھائی دیا۔ گھر کی بہو نے بتایا کہ خاندان کے پاس قریب 35 بیگھے زمین ہے، مویشی ہیں اور ان کے شوہر سی آر پی ایف میں ملازمت کرتے ہیں۔

غیرت کے نام پر؟

Image caption ایک شخص نے بتایا لڑکی اور دلت سماج کے ایک لڑکے کے درمیان تعلقات تھے اور لڑکی کے خاندان والوں کو یہ بات پسند نہیں تھی

ان کے مکان سے تقریباً دس منٹ تک پیدل چلے اور وہ درخت آ گیا۔ یہ پیڑ اتنا چھوٹا اور کمزور لگا کہ یہ یقین کرنا مشکل تھا کہ لڑکی یہیں ملی ہوگی۔

میرے چہرے پر لکھے سوال دیکھ کر اور شاید لڑکی کے گھر سے دور آنے کی وجہ سے آخر کار کچھ گاؤں والے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بات کرنے کو تیار ہوئے۔

ایک شخص نے بتایا لڑکی اور دلت سماج کے ایک لڑکے کے درمیان تعلقات تھے اور لڑکی کے خاندان والوں کو یہ بات پسند نہیں تھی۔

ان کی بات مکمل ہوئی تھی کہ ایک اور آدمی نے کہا کہ سب کو شک ہے کہ لڑکی کی موت کے پیچھے لڑکی ہی کے خاندان کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

یہ الزام انتہائی سنگین ہے اور اس کے پختہ ہونے کا فی الحال کوئی ثبوت نہیں۔ پولیس بھی اس سمت میں پوچھ گچھ کر رہی ہے لیکن ابھی حتمی طور پر کچھ بھی کہنے سے گریز کر رہی ہے۔

اس دوران یہ خبر آئی ہے کہ اس سلسلے میں ایک لڑکے کو حراست میں لیا گیا ہے۔ گاؤں والوں نے بتایا کہ یہ وہی لڑکا ہے جس کی لڑکی سے دوستی تھی۔

ضلع مراد آباد کے ایس ایس پی نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’خاندان کی طرف سے نئی شکایت کی گئی ہے جس میں دو لڑکوں پر اس لڑکی کو قتل کرنے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے، ان میں سے ایک کو حراست میں لیا گیا ہے اور دوسرے کی تلاش جاری ہے۔‘

ہم پھر گھر کی طرف واپس چلے۔ غیرت کے نام پر قتل کے الزام کی اتنی بحث سن چکی تھی کہ گھر کے قریب موٹر سائیکل کا سہارا لیے کھڑے دو لڑکوں سے پوچھ ہی لیا۔

وہ بولے ’نہیں یہ ہمارے گاؤں میں پہلا ایسا واقعہ ہے اور اس کے علاوہ ہم نے کچھ دیکھا نہیں، کچھ سنا نہیں۔‘

اسی بارے میں