’پاکستانی اور ازبک گروپ امن کے لیے مستقل خطرہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ القاعدہ سے منسلک پاکستانی اور ازبکستانی شدت پسند گروہ افغانستان کی فوج پر حملوں میں باقاعدگی سے حصہ لے رہے ہیں۔

ان ماہرین کے مطابق اس سال افغانستان سے نیٹو کی فوجوں کے انخلا کے باوجود یہ شدت پسند گروہ نہ صرف افغانستان بلکہ جنوبی اور وسطی ایشیا اور عالمی برادری کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق یہ رپورٹ طالبان کے خلاف پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ماہرین کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو دی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان اور بین الاقوامی حکام یہ سمجھتے ہیں کہ القاعدہ سے جڑے ہوئے ان جنگجو گروہوں کا مستقبل قریب میں افغانستان سے جانے کا کوئی امکان نہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان، لشکر طیبہ اور لشکر جھنگوی القاعدہ سے منسلک ہیں اور مشرقی اور جنوبی افغانستان میں افغان سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں باقاعدگی سے حصہ لیتی آرہی ہیں اور افغانستان کے شمال میں اسلامک موومینٹ آف ازبکستان ازبک نژاد افغانوں کے درمیان اپنی طاقت بڑھا رہی ہے اور ملک کے کئی صوبوں میں فعال ہے۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حالیہ دہشتگرد حملے کی ذمہ داری بھی اسلامک موومینٹ آف ازبکستان نے قبول کی تھی جس میں اس کے بقول اسکے دس حملہ آور مارے گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق القاعدہ سے جڑے یہ انتہا پسند گروہ ایک ایسے پریشان کن اور طویل المدت سکیورٹی خطرہ پیدا کر رہے ہیں جو افغانستان سے خطے اور اس سے باہر پھیل رہا ہے۔ خاص طور پر جنوبی اور وسطی ایشیا میں۔ جہاں پہلے ہی ایسے عناصر اور گروہوں کی طرف سے دہشت گرد حملے ہوتے رہے ہیں جنھوں نے ماضی میں افغانستان میں تربیت لی۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کی یہ رپورٹ ایسے وقت آئی ہے جبکہ آج افغانستان کے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے کے لیے ووٹنگ ہونے جارہی ہے۔

اسی بارے میں