افغانستان: صدارتی انتخابات میں ووٹنگ مکمل

Image caption دوسرے اور حتمی مرحلے کے لیے چھ ہزار پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں جہاں سکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں

افغانستان میں صدارتی انتخابات کے دوسرے اور حتمی مرحلے کے لیے سنیچر کو ووٹنگ کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔

افغان کے تقریبا ایک کروڑ 20 لاکھ اہل ووٹرز یہ طے کریں گے کہ عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی میں سے کون صدر حامد کرزئی کے جانشین ہوں گے۔

انتخابات کے ابتدائی نتائج دو جولائی تک آنے کے امکانات ہیں جبکہ حتمی نتائج 22 جولائی تک آئیں گے۔

واضح رہے کہ عبداللہ عبداللہ کرزئی حکومت میں وزیر خارجہ رہ چکے ہیں جبکہ اشرف غنی ورلڈ بینک کے سابق ماہر اقتصادیات ہیں۔

ان انتخابات کے ذریعے پہلی بار جمہوری طور پر اقتدار کی منتقلی کا عمل سامنے آئے گا۔

یاد رہے کہ دو ماہ پہلے ہونے والے پہلے مرحلے میں دھاندلیوں کے الزامات کے بعد انتخابی عملے کے ہزاروں افراد کو برطرف کیا جا چکا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس سال کے آخر تک زیادہ تر بیرونی فوجی افغانستان سے واپس چلے جائیں گے اور دونوں صدارتی امیدواروں میں سے جو کوئی بھی اقتدار میں آئے گا اسے، کمزور معیشت، وسیع پیمانے پر بدعنوانی، قانون کے نفاذ کے ساتھ ساتھ طالبان سے مزاحمت کا سامنا ہوگا۔

طالبان نے عہد کر رکھا ہے کہ وہ ووٹنگ کو متاثر کرنے کی پوری کوشش کریں گے اور ’لگاتار‘ حملے کرتے رہیں گے۔

Image caption کابل جانے والی تمام گاڑیوں کی زبردست جانچ کی جا رہی ہے

بی بی سی کی نمائندہ لیز ڈوسٹ کا کہنا ہے کہ روس کی حمایت والی صدر نجیب اللہ کی حکومت سے اب تک تباہی دیکھنے والے افغان اس انتخابات سے یہ امید کر رہے ہیں کہ اس سے ان کی اذیتوں کی تاریخ کا باب بدل جائے گا۔

واضح رہے کہ صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں کوئی بھی امیدوار کامیابی کے لیے درکار 50 فیصد ووٹ حاصل نہیں کر سکا تھا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے جانے والے غیرحتمی نتائج کے مطابق الیکشن میں کُل 6617666 ووٹ ڈالے گئے۔ مردوں میں ووٹنگ کا تناسب 64 فیصد جبکہ خواتین میں 36 فیصد رہا۔

پہلے مرحلے میں سابق وزیرِ خارجہ عبداللہ عبداللہ تقریبا 45 فی صد ووٹ حاصل کر کے پہلے نمبر پر رہے۔

دوسرے مرحلے کے انتخابات کے لیے 6000 پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں جہاں زبردست سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ کابل جانے والی تمام گاڑیوں کی تلاشی لی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مغرب کے تربیت یافتہ سکیورٹی اہلکار ووٹروں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنے میں کامیاب رہیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption عبداللہ عبداللہ کرزئی حکومت میں وزیر خارجہ رہ چکے ہیں جبکہ اشرف غنی ورلڈ بینک کے سابق ماہر اقتصادیات ہیں

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزیر داخلہ عمر داؤدزئی نے کہا: ’پہلے مرحلے کے مقابلے اس بار خطرہ زیادہ ہے لیکن ہم لوگوں کو اب زیادہ تجربہ ہے اور ہم بہتر سامان سے لیس ہیں اور کسی بھی ممکنہ شدت پسندانہ حملے کو روکنے میں زیادہ بہتر حالات میں ہیں۔‘

حکام کا کہنا ہے کہ انھیں اس بات کا زیادہ خوف ہے کہ دونوں امیدواروں کے درمیان مقابلہ سخت ہے اور نتائج میں زیادہ فرق نہیں ہوگا تو ہارنے والے امیدوار کے حامی شکست کو مسترد کردیں گے اور ممکنہ طور پر ملک نسلی بنیادوں پر جنگ میں گھر جائے گا۔

اسی بارے میں