’قومی معیشت کے لیے نیا خطرہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تمل ناڈو کے کونڈئی کولم جوہری پلانٹ کے خلاف اچانک زبردست تحریک شروع ہوئی

اس ہفتے بھارت کے خفیہ ادارے انٹیلی جنس بیورو نے حکومت کو ایک خفیہ رپورٹ پیش کی اور اکیس صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ بھارت کے بعض اخبارات اور ٹی وی چینلوں کے پاس بھی پہنچی جس سے یہ صاف ظاہر تھا کہ انٹیلجنس والے اپنی اسی تجزیاتی رپورٹ کو مشتہر کرنا چاہتے تھے۔

انٹیلی جنس بیورو کی اس رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ غیر ملکی مالی امداد یافتہ غیر سرکاری تنظیمیں ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے ایک خطرہ ہیں۔

اس رپورٹ میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ یہ غیر سرکاری تنطیمیں ملک کی داخلی پیداوار کو ہر برس دو سے تین فی صد تک کا نقصان پہنچا رہی ہیں۔ یعنی آج کی شرح سے یہ نقصان دو سے تین لاکھ کروڑ روپے تک کا ہے۔

یہ تجزیہ خفیہ ادارے کے اقتصادی ماہرین نے کن بنیادوں پر کیا ہے، اس کی توضیح تو وہی کر سکیں گے لیکن غیر سرکاری تنظیموں کو ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے خطرہ بتا کر انٹیلی جنس بیورو نے ملک میں اظہار رائے کی آزادی، احتجاج کے حق اور جمہوری مذمت کے اصولوں کے بارے میں بنیادی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

انٹیلی جنس بیورو نے اپنی رپورٹ میں ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنطیم گرین پیس، ایکشن ایڈ اور حقوق انسانی کی تنطیم ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت کئی سرکردہ غیر سرکاری تنطیموں کا نام لیا ہے جو بھارت میں ایک عرصے سے سرگرم ہیں۔ بیورو نے ان تنطیموں کے فنڈ کی تفصیلات بھی دی ہیں۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہ رپورٹ مودی حکومت کے ایما پر نہیں بلکہ سابقہ منموہن سنگھ حکومت کی ہدایت پر تیار کی گئی ہے۔

تقریباً ڈھائی برس قبل تمل ناڈو کے کونڈئی کولم جوہری پلانٹ کے خلاف اچانک زبردست تحریک شروع ہو گئی۔ اس ری ایکٹر کی تعمیر اور اس کے لیے زمین کے حصول وغیرہ کے عمل میں کوئی خاص مشکل پیش نہیں آئی تھی۔

لیکن جس وقت ملک کا یہ سب سے بڑا ری ایکٹر تیار ہو کر بجلی کی رسد شروع کرنے کی حالت تک پہنچا، اس وقت وہاں مخالفت کی تحریک شروع ہو گئی۔ ملک کے دوسرے علاقوں میں بھی جوہری ری ایکٹروں کی تعمیر کے خلاف احتجاج ہونے لگا۔

اس وقت حکومت کو شک ہوا تھا کہ یہ اجتجاج خود ساختہ نہیں بلکہ کسی کی ایما پر منطم کیے گئے ہیں۔

اس سے قبل بنگال میں کار بنانے والی سب سے بڑی ملکی کمپنی ٹاٹا کو اپنی تعمیر شدہ فیکٹری اکھاڑ کر گجرات لے جانی پڑی کیونکہ فیکٹری بننے کے بعد مقامی لوگوں نے اپنی زمینیں واپس مانگنی شروع کر دی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ greenpeace
Image caption غیر سرکاری تنظیموں نے ماحولیات اور زمین کے حقوق کے نام پر ایسا خوف پیدا کیا ہے کہ حکومتیں سڑک کی توسیع کے فیصلے سے بھی ڈرتی ہیں

اسی طرح کوریا کی سب سے بڑی اسٹیل کمپنی پاسکو بھارتی ریاست اڑیسہ میں تقریباً سات ارب ڈالر کی مالیت کا ایک کارخانہ گذشتہ سات برس سے تعمیر نہیں کر سکی کیونکہ ان تنطیموں کے زیر اہتمام مقامی قبائلی اپنی زمینیں دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ماحولیات اور مقامی مذمت کا خوف اتنا زیادہ پھیل چکا ہے کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں حکومتیں اور نجی کمپنیاں معدنیات اور کوئلے کی کانکنی کی ہمت نہیں کر پا رہی ہیں۔

ان تنظیموں نے ماحولیات اور زمین کے حقوق کے نام پر ایسا خوف پیدا کیا ہے کہ حکومتیں سڑک کی توسیع کے فیصلے سے بھی ڈرتی ہیں کیونکہ اس کے لیے درخت کاٹنے پڑیں گے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پچھلے کچھ سالوں میں غیر سرکاری تنطیموں نے ترقیاتی منصوبوں میں شدید رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔

ان تنطیموں نے بہت سے پراجکٹوں اور منصوبوں کے خلاف رائے عامہ تیار کر کے انھیں ناکام بنایا ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ تنظیمیں عموماً اُن لوگوں کے لیے آواز اٹھاتی ہیں جو بے زبان ہیں اور جو ترقی کے خاکے میں حاشیے پر ہیں۔

یہ تنظیمیں کسی کا مفاد نہیں پورا کر رہیں۔ وہ کسی کے اشارے پر کام نہیں کرتیں۔ غیر سرکاری تنظیموں کے تمام پروگرام اعلان شدہ ہوتے ہیں ان کی کی فنڈنگ وزارت داخلہ سے منطور شدہ ہوتی ہے۔ وہ ملک کے جمہوری قوانین کے دائرے میں رہ کر کام کرتی ہیں۔ رائے عامہ ہموار کرنے میں ان کا اہم کردار ہے۔

بھارت میں ابھی تک حکومتیں زمین کے حصول سے لے کر ماحولیات کے تحفظ تک، ہر پالیسی میں ابہام کا شکار رہی ہیں اور اکثر ترقیاتی منصوبوں کی نوعیت اور مقام کا تعین سیاسی بنیادوں پر ہوتا رہا ہے۔

ترقیاتی کاموں کے لیے قوانین اور ان کے نفاذ میں جس شفافیت کی ضرورت ہے وہ آنا ابھی باقی ہے۔

غیر سرکاری تنظمیں بھارت کے جمہوری معاشرے میں انتہائی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ انٹیلی جنس بیورو نے جو رپورٹ ان تنطیموں کے بارے میں تیار کی ہے وہ کسی بھی طرح ایک جمہوری نظام سے مطابقت نہیں رکھتی۔

اسی بارے میں