انڈین نرسوں کو جنگ سے ڈر کیوں نہیں لگتا

سونیا جومو تصویر کے کاپی رائٹ Sonia Jomon
Image caption سونیا جومو (بائیں) کو اب اس بات کی فکر ہے کہ وہ اُس ادھار کو کیسے ادا کریں گی جو انھوں نے اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے لیا تھا۔

عراقی شہر تکریت پر شدت پسند سنّیوں کے قبضے کے بعد ہندوستان سے جانے والی 46 نرسیں ایک ہسپتال میں پھنس گئی ہیں۔

ان میں سے اکثر کا کہنا ہے کہ وہ جلد از جلد ہندوستان جانا چاہتی ہیں۔

لیکن پچھلے ہفتے چھٹیاں گزارنے کے لیے عراق سے ہندوستان آنے والی نرسوں کا کہنا ہے کہ وہ واپس عراق جانا چاہتی ہیں۔

جنوبی عراقی شہر ناصریہ سے، چھٹیوں پر آنے والی جنوبی ہندوستانی ریاست کیرالہ کی سندھو نے بی بی سی کو بتایا ’ہمیں عراق کی صورتِ حال کے بارے میں بہت تشویش ہے لیکن میں واپس کام پرجانا چاہتی ہوں‘۔

28 سالہ سندھو10 جون کو، شمالی و وسطی عراقی شہروں پر دولت اسلامی عراق و شام، داعش نامی تنظیم کے قبضے شروع ہونے سے ایک ہی دن پہلے واپس گھر پہنچی تھیں۔

ان کی واپسی کا ٹکٹ 26 جون کا ہے لیکن ہندوستانی حکومت نے اپنے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ عراق نہ جائیں اور جو وہاں ہیں وہ عراق چھوڑ دیں۔

موصل میں ایک ہندوستانی تعمیراتی کمپنی کے 40 ملازمین کے اغوا کی خبر کے بعد سندھو کو پتا ہے کہ حالات ٹھیک نہیں ہیں۔

لیکن اُسے واپس جانا ہے کیونکہ اگر وہ واپس نہ گئی تو اپنے تعلیمی اخراجات اور عراق بھیجنے والے ریکروٹنگ ایجنٹ کے لیے لیا گیا قرض کیسے چکائیں گی۔

اس نے مزید بتایا ’میری دوست مجھے روزانہ فون کرتی اور بتاتی ہے کہ ناصریہ میں کوئی مسئلہ نہیں ہے اور مجھے واپس چلے جانا چاہیے۔ لیکن میرے لیے فیصلہ کرنا آسان نہیں کیونکہ اگر جاتی نہیں تو ریکروٹنگ ایجنٹ کے لیے لیا گیا ڈیڑھ لاکھ روپے کا قرض کیسے ادا ہو گا۔‘

وہ مزید بتاتی ہیں ’میری والدہ کے گردے خراب ہیں انھیں ہفتے میں تین بار ڈائلائسس کرانا ہوتا ہے۔ میرے والد تو معمولی کسان ہیں انھوں نے مجھے پڑھانے اور ریکروٹنگ ایجنٹ کو دینے کے لیے دوستوں سے قرض لیا تھا۔ اس میں کچھ رقم پر تو سود بھی ہے۔ اور یہ سب مجھے ادا کرنا ہے۔‘

کم تنخواہیں

عراق جانے سے پہلے سندھو دہلی کے ایک ہسپتال میں کام کرتی تھیں۔ ان کی تنخواہ ماہانہ 11 ہزار روپے تھی۔ یعنی تقریباً 183 ڈالر لیکن ناصریہ میں انھیں ماہانہ 850 ڈالر ملتے ہیں۔

ان کی دوست سونیا بھی ان کی طرح عراق میں کام کرتی ہیں اور ان دنوں چھٹیوں پر آئی ہوئی ہیں۔ ان کا بھی مسئلہ یہی ہے کہ اگر وہ واپس نہیں جاتیں تو تعلیم کے لیے لیا گیا قرض کیسے چکائیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption داعش کے جنگجوؤں نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران تکریت سمیت کئی عراقی شہروں ہر قبضہ کر لیا ہے۔

سونیا کا کہنا ہے ’میں نے ریکروٹنگ ایجنٹ والا قرضہ تو اتار دیا ہے لیکن تعلیم کے لیے لیا جانے والا قرضہ کیسے ادا کروں اگر واپس نہ جاؤں تو۔ یہاں جو تنخواہ ملتی ہے اس میں تو اس قرض کا اترنا ممکن نہیں۔‘

سونیا نے تو طے کر لیا ہے جب تک قرض نہیں اترتا عراق ہی میں کام کرنا ہے لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انھیں عراق میں کام کرنا پسند بھی ہے۔

تکریت میں پھنسی ہوئی نرسوں کا معاملہ اتنا سیدھا نہیں ہے۔ ان کے لیے تکریت سے نکلنا اتنا آسان نہیں۔ اگرچہ ان میں سے ایسی بھی ہیں جو اچھی تنخواہوں کی وجہ سے قرضے ادا کر چکی ہیں۔

ان میں ایسی بھی ہیں جنھوں نے سرکاری قرضے لیے تھے اور انھوں نے ان حالات میں حکومت سے قرض معاف کرنے کی درخواست کی ہے تا کہ وہ محفوظ حالات میں لوٹ سکیں۔

کیرالہ میں اوور سیز امور کے وزیر کے سی جوزف کا کہنا ہے ’ہماری اولین ترجیح وہاں پھنسے ہوئے لوگوں کو بہ حفاظت واپس لانا ہے، قرضوں کی معافی کا معاملہ ثانوی ہے۔‘

اسی بارے میں