کُشتی کی رننگ کمنٹری کرنے والے پجاری

تصویر کے کاپی رائٹ Amol Gavali
Image caption شنکر پجاری اپنی موجودہ شکل میں کشتی کے مقابلے میں كمنٹري کا آغاز کرنے والے کمنٹیٹر ہیں۔

ایک ایسی شخصیت جنہوں نے ’رننگ كمنٹري‘ کے معنی ہی بدل دیے ہیں اور مسلسل 12 گھنٹے تک کشتی کے مقابلوں کی رننگ کمنٹری کرسکتے ہیں۔

شنکر پجاری اپنی موجودہ شکل میں کشتی کے مقابلے میں كمنٹري کا آغاز کرنے والے کمنٹیٹر ہیں۔

ان مقابلوں کے لیے ان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ مہاراشٹر میں کئی کشتی کے مقابلوں کی تاریخ ان کے پروگرام کو دیکھتے ہوئے تبدیل کر دی جاتی ہے۔

ان کا انداز اس قدر دلچسپ ہے کہ وہ صرف كمنٹري نہیں کرتے بلکہ میدان میں موجود مجمع کو مقابلے کا حصہ بنا دیتے ہیں۔

سابق پہلوان اور گرو راجندر شندے کہتے ہیں ’شنکر پجاری کی کمنٹری نے کشتی میں نئی جان ڈال دی ہے وہ بھی تب جب یہ برے دور سے گزر رہی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ DAN ISAACS
Image caption سابق پہلوان گرو راجندر شندے کا کہنا ہے کہ ان کے سٹائل نے کشتی میں نئی دلچسپی پیدا کی ہے

وہ جس طرح سے کشتی کے داؤ پیچ کی تشریح کرتے ہیں اور سمجھاتے ہیں اس سے بھیڑ كھچي چلی آتی ہے اور راجندر شندے کہتے ہیں کہ ان کے سٹائل سے کشتی ایک نئے طور پر دوبارہ زندہ ہو گئی ہے۔ لوگ کئی دیگر مواقع پر کشتی کے مقابلے منعقد کرنے لگے ہیں۔‘

پجاری کی كمنٹري وہی سن سکتے ہیں جنہیں یہ مقابلے دیکھنے کے لیے میدان میں آنے کا موقع ملتا ہے اس وجہ سے بڑے سے میدان میں کئی اسپیکر لگانے پڑتے ہیں۔

ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ براہ راست ریڈیو پر كمنٹري کیوں نہیں؟

كولہاپر ضلع کے كوٹھالي گاؤں میں واقع گھر میں ہم سے بات کرتے ہوئے پجاری کہتے ہیں کہ ’یہ بہت مشکل ہوگا۔ ہمارا نظام اور سٹائل اس کے لیے نہیں بنا ہے، خاص طور پر گاؤں کی سطح پر۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ہماری كمنٹري میں ہم مقابلے کے درمیان میں کمنٹري روک کر مقامی معزز لوگوں کے آنے کی خبر دیتے ہیں۔ ان میں پرانے نامی پہلوان یا مقامی ممبر اسمبلی کوئی بھی ہو سکتا ہے اور یہ تمام تک گھنٹوں چلتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ P Sainath
Image caption شنکر پجاری جوانی میں پہلوانی کر چکے ہیں

ان کے کیریئر کا سب سے شاندار لمحہ اس وقت تھا جب وہ وارانگر میں ناظرین کو 12 گھنٹوں تک اپنی كمنٹري سے باندھے رکھنے میں کامیاب رہے تھے۔

پاکستان سے آنے والے پہلوان کی آمد میں تاخیر کی وجہ سے ان کے سامنے ایک چیلنج تھا اور اسے پجاری نے قبول کیا اور بخوبی نبھایا۔

ان کے پاس کشتی کی تاریخ اور ثقافت کے بارے میں بے انتہا معلومات ہیں اور وہ خود ایک پہلوان رہ چکے ہیں۔ کشتی کے داؤ پیچ کے بھی وہ ماہر ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے آٹھ سال کی عمر میں پہلوانی شروع کی تھی لیکن 1972 کے خوفناک خشک سالی میں ہماری فصلوں کی تباہی کے نتیجے میں اسے ترک کرنا پڑا۔ اگر فصل خطرے میں ہے تو کشتی بھی ہے۔‘

انہوں نے دو منٹ تک ہمیں لائیو كمنٹري کا نمونہ دیا۔ انہوں نے اتنے ہی وقت میں ماحول کو متحرک بنا دیا۔ ظاہری طور پر ان کی آواز ریڈیو کے براڈکاسٹر جیسی ہے۔

Image caption نوجوان پہلوان ان میدانوں میں کسرت کرتے ہیں اور ورزش کرتے ہیں

وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے یہ ہنر اپنے گرو باپ صاحب راڈے سے سیکھا ہے کہ ’لیکن انہوں نے خود بھی اس مواد اور سٹائل میں تبدیلی کی۔‘

اپنی كمنٹري کی خاص سٹائل کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ’ناظرین اور عام عوام کی دلچسپی کو ابھارنا ہوتا ہے کہ آخر کشتی ہے کیا۔ اس میں نہ صرف کشتی کے بارے میں معلومات ہونی چاہیے بلکہ اس کھیل کی سماجی اور ثقافتی اہمیت اور تاریخ کے بارے میں بھی بتانا چاہیے۔ كمنٹري کرنے والے کو ناظرین کو کشتی کے داؤ پیچ اور سٹائل کے بارے میں بھی معلومات دینی چاہیے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’کمنٹری کرنے والوں کو پہلوانوں کو بھی یہ بتانا چاہیے کہ اپنی طاقت کا غلط استعمال نہ کریں۔ اگر طاقتور پہلوانوں کو استعمال امیر لوگ کرنے لگیں تو یہ کھیل کے لیے مہلک ہو گا۔ اس لیے پہلوانوں میں دوسرے کے لیے احترام کا احساس ہونا چاہیے۔‘

پجاری گاما پہلوان جیسے نامور پہلوانوں کے قصے بڑی دلچسپی سے یاد کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ DAN ISAACS
Image caption پجاری کا کہنا ہے کہ انہیں اس سٹائل میں کمنٹری کرنے کا خیال کرکٹ کی کمنٹری سے آیا

پجاری نے 1985 میں كمنٹري کا آغاز کیا تھا اور وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے یہ خیال کرکٹ کی كمنٹري سن کر آیا۔ مجھے لگا کہ ہم کشتی کے مقابلے دیکھنے والی عوام کے لیے كمنٹري کر کے کشتی کو اور زیادہ مقبول کیوں نہیں بنا سکتے؟ ہم انہیں اس کھیل کی باریکیوں، داؤ پیچ اور تاریخ کے بارے میں کیوں نہیں بتا سکتے؟ اس سے لوگوں کے اندر سیکھنے کی لگن میں اضافہ ہوگا اور نوجوانوں کی کشتی کو اپنانے کے لیے حوصلہ افزائی ہو گی۔‘

1985 میں ابتدائی مقابلوں میں مفت میں كمنٹري کرنے والے پجاری اب سال میں كمنٹري کے 150 معاہدے مل جاتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ’اس کے سہارے میرا رزق چل جاتا ہے۔‘

وہ یاد کرتے ہیں کہ انہیں پہلا بڑا موقع سال 2000 میں ساگلي میں ملا تھا۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال کے سیلاب کی وجہ سے کشتی کے کئی مقابلے منسوخ ہو گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ DAN ISAACS
Image caption کشتی کے مقابلوں کے لیے پنڈال میں بڑے سپیکر لگائے جاتے ہیں اور کمنٹیٹر کھیل کے داؤ پیچ کے بارے میں بات کرتے ہیں

اسے دیکھتے ہوئے پجاری سیاستدانوں کو پیغام دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’آپ لوگوں نے جانوروں کو بچانے کے لیے چارہ مرکز کھولے ہیں۔ بہت اچھا ہم اس کے لیے آپ کے شكرگزار ہیں۔ کیا آپ پہلوانوں کو بچانے کے لیے بھی کوئی کیمپ کھول سکتے ہیں یا انتظام کر سکتے ہیں؟ آخر، پہلوانی بھی تو کھیتی اور برسات پر منحصر ہیں۔‘

اسی بارے میں