سوئس بینکوں میں بھارتی ’کالا دھن،‘ فہرست کی تیاری

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اہلکار کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے تمام 283 بینکوں میں کل غیر ملکی دولت 16 کھرب ڈالر ہے

سوئس بینکوں میں جمع بھارت کے کالے دھن یا غیر قانونی رقم کے بارے میں بھارت کو معلومات دینے کے لیے سوئٹزرلینڈ کی حکومت ایک فہرست تیار کر رہی ہے۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے سوئٹزرلینڈ کے ایک سینیئر اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ مختلف سوئس بینکوں میں جمع رقوم کے اصل مالکوں کی شناخت کے لیے جاری مہم میں بعض ہندوستانی شہری اور ادارے جانچ کے مرکز میں ہیں۔

پی ٹی آئی کے مطابق اپنا نام ظاہر نہ کیے جانے کی شرط پر سوئس اہلکار نے کہا کہ اس طرح کے لوگوں اور اداروں کی فہرست کو بھارت کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔

سوئس اہلکار نے کہا: ’آنے والے دنوں میں ان سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کی جائیں گی اور اس سلسلے میں ضروری انتظامی امداد بھی فراہم کی جائے گی۔‘

بھارت میں کالے دھن پر کنٹرول کرنے کے لیے تشکیل دی جانے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کے سربراہ جسٹس ایم بی شاہ نے کہا کہ اس فہرست کی جانچ کی جائے گی اور غیر قانونی دولت جمع کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

سوئٹزرلینڈ کے افسر نے بھارت اور سوئس حکومت کے درمیان ہونے والے معلومات کے تبادلے کے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے ان اداروں اور ان کی رقوم کے بارے مزید معلومات دینے سے انکار کر دیا۔

واضح رہے کہ سوئس بینک میں جمع رقوم اور کھاتہ داروں کے بارے میں بینک اور ریگولیٹری اداروں کی جانچ کے بعد ان اداروں کا ہندوستان سے تعلق سامنے آیا تھا۔

کالا دھن واپس لانے کے معاملے میں سوئٹزرلینڈ کے مرکزی بینک ایس این بی نے اعداد و شمار جاری کیے تھا۔

اس اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2013 کے دوران سوئس بینکوں میں جمع بھارتی رقوم میں 43 فیصد اضافہ دیکھا گیا اور کل جمع رقوم 140 ارب روپے تھی۔

سوئٹزرلینڈ کے اہلکار کا خیال ہے کہ یہ رقوم قانونی بھی ہو سکتی ہیں کیونکہ ان کھاتے کے مالکوں نے خود ہی اپنی بھارتی شہریت کا اقرار بھی کیا ہے۔

انھوں نے ان تخمینوں سے بھی انکار کیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سوئس بینکوں میں ہندوستانیوں نے کھربو ڈالر جمع کر رکھے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سوئس بینکوں میں بھارت سے متعلق لوگوں کی کل جمع رقوم 140 ارب روپے بتائی گئی ہے

انھوں نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ کے تمام 283 بینکوں میں کل غیر ملکی دولت محض 16 کھرب ڈالر ہے۔

دوسری جانب جسٹس شاہ نے کہا ’یہ فہرست صرف کالے دھن جمع کرانے والوں کی ہی نہیں ہے۔ اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنھوں نے قانونی طور پر پیسے جمع کیے ہیں۔ یہ مجموعی فہرست ہے۔ ہم اس فہرست کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر یہ قانونی طور پر جمع کی گئی رقوم ہیں تو ہم کچھ نہیں کر سکتے اور اگر یہ غیر قانونی اور مخفی رقوم ہیں تو ہم کارروائی کریں گے۔‘

بھارت ان 36 ممالک میں شامل ہے جن کے ساتھ سوئٹزرلینڈ نے بین الاقوامی معیار کے مطابق ٹیکس معاملات میں انتظامی تعاون فراہم کرنے کے لیے معاہدہ کیا ہے۔

اسی بارے میں