ریپ کیس میں ترون تیجپال کی ضمانت

 ترون تیج پال تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ترون تیج پال کوگزشتہ 30 نومبر 2013 کو گرفتار کیا گیا تھا

بھارت کی سپریم کورٹ نے جنسی استحصال کے معاملے میں تہلکہ کے بانی ترون تیجپال کو ضمانت دے دی ہے۔

سرکاری ٹی وی چینل دوردرشن کے مطابق تیجپال نے عدالت میں کہا کہ ضمانت پر رہا ہونے کے بعد نہ تو ثبوت مٹانے کی کوشش کریں گے اور نہ ہی گواہوں کو دھمكائیں گے۔

تیجپال پر گذشتہ سال نومبر میں گوا میں اپنی ایک ساتھی ملازم کے جنسی استحصال کا الزام ہے۔ انھیں 30 نومبر 2013 کو گرفتار کیا گیا تھا اور وہ فی الحال عبوری ضمانت پر ہیں۔

عدالت نے تیجپال کو ضمانت دینے کے لیے سخت شرائط رکھی تھیں اور کہا تھا کہ ان میں سے کسی ایک کی خلاف ورزی ہونے پر ان کی ضمانت منسوخ ہو جائے گی۔

عدالت نے ساتھ ہی نچلی عدالت سے اس معاملے کی سماعت آٹھ ماہ میں مکمل کرنے کے لیے کہا ہے۔ اس سے پہلے گوا حکومت نے 51 سالہ تیجپال کو عبوری ضمانت دینے کی مخالفت کی تھی۔

حکومت کی دلیل تھی کہ متاثرہ لڑکی اور اس کے دوست کو دھمکی بھرے ای میل ملے ہیں۔

سپریم کورٹ نے تیجپال کو گذشتہ 19 مئی کو تین ہفتے کی عبوری ضمانت دی تھی تاکہ وہ اپنی والدہ کے جنازے میں شریک ہو سکیں۔

ترون تیجپال کوگذشتہ 30 نومبر 2013 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر آئی پی سی کی دفعات 341 ، 342 ، 354 - اے اور 376 لگائی گئی ہیں۔

اسی بارے میں