عبداللہ عبداللہ اپنی شکست تسلیم کرنے کو تیار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ڈاکٹر عبداللہ نے اپریل میں ہونے والے پہلے دور میں برتری حاصل کی تھی لیکن وہ واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکے تھے

افغانستان کے صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ اپنے مخالف امیدوار کی جیت کا احترام کریں گے تاہم یہ صرف اسی صورت میں ہوگا اگر یہ ثابت کر دیا جائے کہ یہ انتخاب شفاف ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ 14 جون کو اشرف غنی کے ساتھ ہونے والے انتخابی مقابلے کے جائز نتائج کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔

دونوں امیدواروں نے ووٹنگ میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں جن کے بعد انتخابات کے صوبائی نتائج ووٹوں کی جانچ کے لیے ایک ہفتے تک کے لیے موخر کر دیے گئے ہیں۔

ڈاکٹر عبداللہ نے اپریل میں ہونے والے پہلے دور میں برتری حاصل کی لیکن واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکے۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کیرن ایلن کا کہنا ہے کہ سابق مزاحمت کار اور وزیرِ خارجہ نے بظاہر اپنے موقف میں نرمی کی ہے۔

دو ہفتے قبل انھوں نے مطالبہ کیا تھا کہ گنتی فوراً روک دی جائےاور وہ بڑے پیمانے پر ہونے والے دھاندلی کے الزامات کے تحقیقات تک کسی بھی نتیجے کو قبول نہیں کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY
Image caption ڈاکٹر عبداللہ کے ہزاروں حامیوں نے گذشتہ ہفتے کے اختتام پر مظاہرے کیے

دھاندلی کے الزامات کے باعث انتخابی محکمے کے ایک سینیئر اہلکار نے استعفٰی دے دیا تھا۔

منگل کو انتخابی کمیشن نے کہا تھا کہ انتخابات کے صوبائی نتائج ایک ہفتے تک کے لیے موخر کر دیے گئے ہیں اور ان ہزاروں پولنگ سٹیشنوں پر ووٹوں کی گنتی دوبارہ ہو گی جہاں سے بے قاعدگی کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔

نامہ نگار کیرن ایلن کے مطابق تقریباً دس لاکھ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی جاری ہے کیونکہ انتخابی مبصرین نے غیرمعمولی دھاندلی کے خدشات ظاہر کیے تھے۔

سب سے بڑا اعتراض ٹرن آؤٹ کے بہت بڑی تعداد پر ہے کیونکہ یہ پہلے مرحلے کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔

اس کے علاوہ بعض حلقوں میں امیدواروں کو مشتبہ حد تک زیادہ ووٹ ملے اور خواتین کے ووٹوں کی تعداد بھی بہت زیادہ رہی جو مقامی روایات کے خلاف ہے۔

ڈاکٹر عبداللہ کے ہزاروں حامیوں نے گذشتہ ہفتے کے اختتام پر مظاہرے بھی کیے۔

اسی بارے میں