’دہلی میں ریپ کے مقدمات کی شرح سب سے زیادہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت میں حال ہی میں خواتین کے تحفظ کے لیے سخت قوانین بنائے گئے لیکن جنسی زیادتی کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے

بھارت میں جرائم کا ریکارڈ رکھنے والے قومی ادارے کا کہنا ہے کہ ملک میں روزانہ اوسطاً جنسی زیادتی کے 92 مقدمے درج ہوتے ہیں۔

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق بھارتی دارالحکومت دہلی میں فی ایک لاکھ خواتین میں جنسی زیادتی کے معاملات کی شرح ملک بھر میں سب سے زیادہ ہے۔

بیورو کے اعداد و شمار کے حساب سے سنہ 2013 میں دہلی میں ریپ کے 1636 مقدمات درج ہوئے جو ملک میں درج ہونے والے مقدمات کا چار اعشاریہ آٹھ پانچ فیصد تھے۔

یہ اعدادوشمار ان واقعات کے ہیں جنھیں پولیس میں رپورٹ کیا گیا اور مقدمہ درج ہوا اور بھارت میں ریپ کے بہت سے معاملے پولیس تھانوں تک پہنچ ہی نہیں پاتے۔

دہلی میں خواتین کی کل تعداد 87 لاکھ 80 ہزار ہے اور اس حساب سے 2013 میں یہاں ریپ کے مقدمات کی شرح 18.63 فیصد رہی۔

اہم بات یہ ہے کہ دہلی میں گذشتہ برس کے دوران ایسے واقعات کے مقدمات کے اندراج میں دس فیصد سے زیادہ کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 2012 میں یہاں یہ شرح صرف آٹھ اعشاریہ دو چھ فیصد ہی تھی۔

Image caption جنسی زیادتی کے خلاف بھارت بھر میں مظاہرے ہوتے رہے ہیں

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق ریپ کے واقعات میں دہلی کے بعد دوسرے نمبر پر میزورام رہا جہاں ایسے معاملات کی شرح 17.8 فیصد رہی جو کہ گذشتہ برس کے مقابلے میں تین فیصد کم ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ اس پوری ریاست میں خواتین کی آبادی پانچ لاکھ ہے۔

اس فہرست میں تیسرے مقام پر سکم تھا جہاں خواتین کی کل آبادی صرف دو لاکھ 95 ہزار ہے تاہم اوسطاً ملک میں ریپ کے کل مقدمات میں سے تقریباً ساڑھے چودہ فیصد یہاں درج کیے گئے۔

جنسی زیادتی کے معاملات میں کئی سال سے خبروں میں رہنے والی ریاست مدھیہ پردیش میں اس سال بھی سب سے زیادہ 4335 کیس درج ہوئے مگر یہاں ایک لاکھ خواتین کے حساب سے ان کی شرح بارہ فیصد رہی۔

مدھیہ پردیش میں تقریبا تین کروڑ 58 لاکھ خواتین ہیں۔

خیال رہے کہ بھارت میں 2012 میں جنوبی دہلی میں ایک لڑکی کی جنسی زیادتی کے بعد موت کے نتیجے میں ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔

اس کے بعد ملک میں خواتین کے تحفظ کے لیے سخت قوانین بنائے گئے لیکن عمومی رائے یہی ہے کہ یہ قوانین ایسے واقعات کو روکنے کے لیے کافی نہیں۔

اسی بارے میں