سہولت یا زحمت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بعض اطلاعات کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ مساجد بھارت میں ہیں

اس وقت اتر پردیش کا مرادآباد شہر مذہبی فسادات کے دہانے پر ہے۔ ضلع کے ایک گاؤں میں ایک مندر پر لاؤڈ سپیکر لگا ہوا تھا۔

اس لاؤڈ سپیکر پر تنازع پہلے سے چلا آ رہا تھا۔ لیکن جب رمضان کے دنوں میں مسلمانوں نے پولیس سے باضابطہ طور پر شکایت کی تو پولیس نے لاؤڈ سپیکر ہٹا دیا۔پورے علاقے میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔

ہندو تنظیمیں اکھلیش یادو کی ریاستی حکومت پر ووٹ کی لالچ میں مسلمانوں کو خوش رکھنے کی پالیسی پر عمل کرنے کا الزام لگا رہی ہیں۔

کئی ہندو تنظیموں نے گذشتہ دنوں ایک مہا پنچایت طلب کی۔ اس میں شرکت کے لیے بی جے پی کے وہ رہنما بھی پہنچے تھے جن پر مظفر نگر کے فسادات بھڑکانے کا الزام ہے۔ مہا پنچایت تو نہیں ہو سکی لیکن مرادآباد کی فضا مزید خراب ہو گئی۔ ہر طرف یہ بحث جاری ہے کہ مسلمانوں کی شکایت پر ہندوؤں کو اپنے مندر پر لاؤڈ سپیکر لگانے نہیں دیا گیا۔

چند ہفتے قبل کرناٹک کے منگلور شہر میں بعض ہندو تنظیموں کے کارکنوں نے ضلع مجسٹریٹ کے دفتر کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ شہر کی مسجدوں میں فجر کی اذان لاؤڈ سپیکروں پر نہ کی جائے۔ یہ کارکن سپریم کورٹ کی ایک ہدایت کا حوالہ دے رہے تھے۔ ان کایہ بھی کہنا تھا کہ لاؤڈ سپیکروں کے استعمال سے امتحان کے دوران طلبہ کی نیند میں خلل پڑتا ہے اس لیے اس پر پابندی لگائی جائے۔

بعض اطلاعات کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ مساجد بھارت میں ہیں۔ ان کی تعداد پانچ لاکھ سے بھی زیادہ ہے اور یہ تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ تین عشرے قبل مفتی و مشائخ اذان کے لیے مسجدوں میں لاؤڈ سپیکروں کے استعمال کے خلاف فتوے دیا کرتے تھے۔ آج بھارت کی بیشتر مسجدوں میں لاؤڈ سپیکر لگے ہوئے ہیں ۔

ان دنوں مسلمانوں کے روزے رکھنے کا مہینہ رمضان چل رہا ہے۔ اتر پردیش، بہار مغربی بنگال سمیت ملک کے مسلم آبادی والے شہروں، قصبوں اور گاؤں کی بیشتر مسجدوں میں پہلے تو صرف اذان ہی لاؤڈ سپیکر پر دی جاتی تھی۔ رمضان میں بیشتر مسجدوں میں تراویح اور جمعہ کی پوری نماز اور اماموں کے خطبوں کے دوران بھی لاوڈ سپیکر استعمال کیے جاتے ہیں ۔

بھارت میں بیشتر مندروں میں بھی لاؤڈ سپیکر لگے ہوئے ہیں جہاں صبح شام، بھجن کیرتن اور پوجا وغیرہ کے دوران ان لاؤڈ سپیکروں کو استمعال کیا جاتا ہے۔

بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جہاں عرب میں ظہور پذیر ہونے والے مذاہب پہنچے اور جن میں سے بیشتر کا وجود قائم ہے۔آج دنیا کے ہر مذہب کے لوگ اپنے پورے مذہبی حقوق کے ساتھ بھارت میں موجود ہیں ۔ابھی تک عبادت گاہوں کی تعمیر اور مذہبی جلسے، جلوسوں پر کوئی پابندی نہیں رہی ہے۔

پچھلے عشروں میں مذہبی مسابقت اور مکمل آزادی کے سبب مذاہب کا مظاہرہ اپنی حدود سے آگے نکل گیا ہے ۔ لوگوں کو محسوس ہونے لگا ہے کہ مذہبی تہواروں جلسے جلوسوں کی تعداد اتنی بڑھ چکی ہے وہ روز مرہ کی زندگی کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت میں بیشتر مندروں میں بھی لاؤڈ سپیکر لگے ہوئے ہیں جہاں صبح شام، بھجن کیرتن اور پوجا وغیرہ کے دوران ان لاؤڈ سپیکروں کو استمعال کیا جاتا ہے

آج کی زندگی انتہائی تیز رفتار ہے۔اس دور میں عام آدمی کے لیے زندگی ذہنی دباؤ، روزہ مرہ مسائل اور مشکلات سے بھرپور ہے۔ ہر لمحہ کی قیمت، معنویت اور قدر ہے۔

مختلف مذاہب اپنی روحانیت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سے موجودہ دور میں انسانیت کے لیے پہلے سے زیادہ بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

لیکن اس کے لیے کسی لاؤڈ سپیکر کی ضرورت نہیں ہے ۔اس بات سے سبھی متفق ہیں کہ مذاہب کا ظہور انسانیت کی بقا کے لیے ہوا تھا۔اسے انسانیت کو تکلیف دینے کا ذریع نہیں بنناچاہئے۔

اگر لاؤڈ سپیکر کا استعمال بیشتر لوگوں کے لیے مشکلیں پیدا کر رہا ہے اور اگر یہ تکلیف کا باعث بن رہا ہے تو کیا اسے پورے ملک میں عبادت گاہوں سے ہٹا نہیں لیا جانا چاہیے۔

اسی بارے میں