بی جے پی کا پہلا بجٹ، دفاع کے لیے زیادہ فنڈز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ مالی سال میں دفاع کے لیے رقم تقریباً دو لاکھ تین ہزار کروڑ روپے تھی

بھارت میں وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی نئی حکومت کا پہلا وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے دفاعی شعبے میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت دینے اور فوج کے لیے دو لاکھ 29 ہزار کروڑ روپے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس سے پہلے کانگریس کی قیادت والی حکومت نے مارچ میں اپنا عبوری بجٹ پیش کرتے ہوئے مسلح افواج کے لیے دو لاکھ 24 ہزار کروڑ روپے مختص کیے تھے۔ اس رقم میں پانچ ہزار کروڑ روپے یا دو فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔

گذشتہ مالی سال میں یہ رقم تقریباً دو لاکھ تین ہزار کروڑ روپے تھی۔

وزیر خزانہ کے پاس وزارت دفاع کا قلمدان بھی ہے اور انھوں نے بجٹ میں ملک کے اندر ہی دفاعی ساز و سامان کی تیاری کو فروغ دینے کے لیے دفاعی شعبے میں انتالیس فیصد براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت دینے کا اعلان کیا۔

بھارت اسلحہ برآمد کرنے والے ممالک میں سرِفہرست ہے اور اپنی مسلح افواج کو جدید ترین ہتھیار اور فوجی ساز و سامان مہیا کرنے کے لیے مستقبل قریب میں اربوں ڈالر کے سودوں کو حتمی شکل دینے کی تیاری میں ہے۔

ارون جیٹلی نے اپنی تقریباً سوا دو گھنٹے کی تقریر میں کہا کہ ان کی حکومت کا مقصد اقتصادی ترقی کی رفتار کو تیز کرنا ہے جو گذشتہ دو برسوں میں پانچ فیصد سے بھی کم رہی ہے۔

لیکن تجزیہ نگاروں کے مطابق ان کے لیے یہ کام آسان نہیں ہوگا کیونکہ بجٹ میں انھوں نے جو تجاویز پیش کی ہیں ان سے مالی وسائل کی قلت صاف نظر آ رہی ہے۔ ارون جیٹلی نے بھی کہا کہ’ہم اپنی گنجائش سے زیادہ خرچ نہیں کرسکتے‘ اور یہ کہ وہ مالی خسارے کو سابقہ حکومت کی تعین کردہ حد کے اندر ہی رکھیں گے۔

لیکن انھوں غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے کئی اصلاحات کا اعلان کیا۔دفاع کے علاوہ انشورنس کے شعبے میں بھی انتالیس فیصد غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت دی گئی ہے اور غیر ملکی کمپنیوں کو یقین دلایا گیا ہےکہ ٹیکس کے نظام میں ان کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں کی جائے گی۔

ارون جیٹلی نے انفرادی ٹیکس کے زمرنے میں کسی بڑی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا لیکن اب ان لوگوں کو کوئی ٹیکس نہیں دینا پڑے گا جن کی سالانہ آمدنی ڈھائی لاکھ روپے تک ہے۔اس سے پہلے یہ حد دو لاکھ روپے تھی۔

اسی طرح بچت کو فروغ دینے کے لیے کچھ اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔ جو لوگ ٹیکس بچانا چاہتے ہیں وہ اب سرکاری بانڈز اور انشورنس وغیرہ میں ایک لاکھ کے بجائے ڈیڑھ لاکھ روپے جمع کرا سکیں گے اور اس رقم پر کوئی ٹیکس ادا نہیں کرنا ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت اس وقت اربوں ڈالر کے سودوں کو حتمی شکل دینے کی تیاری میں ہے

بجٹ میں جو چیزیں مہنگی ہوئی ہیں ان میں سگریٹ سرفہرست ہے جس پر ٹیکس میں بھاری اضافہ کیا گیا ہے لیکن صابن، تیل، ٹی وی موبائل، کمپیوٹر بنانے میں استمعال ہونے والے پرزے اور کپڑے وغیر پر ڈیوٹی کم کی گئی ہے جس کی وجہ سے چیزیں سستی ہو جائیں گی۔

سڑکوں کی تعمیر کے لیے37 ہزار کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کفایتی مکانوں اور گنگا کی صفائی کے لیے بھی دو بڑی سکیموں کا اعلان کیا گیا ہے۔ گجرات میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کے دیو قامت مجسمے کی تعمیر کے لیے دو سو کروڑ روپے دیے گیے ہیں۔ یہ وزیراعظم نریندر مودی کا پسندیدہ منصوبہ ہے۔

مسٹر جیٹلی نے کہا کہ ملک تین چار سال میں دوبارہ سات سے آٹھ فیصد کی رفتار سے ترقی کرے گا اور اس حدف کو حاصل کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال بجٹ خسارہ چار اعشایہ ایک فیصد ہے جسے آئندہ دو برسوں میں تین اعشاریہ چھ فیصد تک لایا جائے گا۔

اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کی صدر سونیاگاندھی نے کہا کہ اس میں سوشل سیکٹر کے لیے کچھ نہیں ہے اور ارون جیٹلی نے زیادہ تر کانگریس کی سابقہ حکومت کی سکیموں کی نقل کی ہے۔

اسی بارے میں