’حافظ سعید سے ملاقات سے کچھ لینا دینا نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ ved pratap vaidik
Image caption بھارتی آزاد صحافی وید پرتاپ ویدک کی حافظ سعید سے ملاقات کا معاملہ بھارتی پارلیمان میں اٹھایا گيا

بھارت کی بی جے پی حکومت نے معروف یوگا گرو رام دیو سے قریب سمجھے جانے والے صحافی وید پرتاپ ویدک کی پاکستانی تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید سے ملاقات سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

صحافی وید پرتاب ویدک کی لاہور میں حافظ سعید سے ملاقات کے بعد بھارت میں اس پر خوب لے دے ہو رہی ہے اور پیر کو اس معاملے کو بھارت کی پارلیمان میں بھی اٹھایا گیا۔ کانگریس نے بھارتی پارلیمان میں صحافی ویدک کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔

بھارتی وزیر خزانہ ارون جیتلی نے راجیا سبھا میں بیان دیتےہوئے کہا کہ حکومت کا حافظ سعید سے ملاقات سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ انھوں نے واضح طور پر کہا کہ حکومت نے ویدک کو حافظ سعید سے ملاقات کی اجازت نہیں دی تھی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ٹریک ٹو یا ٹریک تھری ڈپلومیسی نہیں ہو رہی ہے۔

واضح رہے کہ بھارت جماعت الدعوۃ کو بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث گردانتا ہے اور سنہ 2008 میں ممبئی پر ہونے والے حملوں کا ذمہ دار تسلیم کرتا ہے۔

راجیہ سبھا کے رکن اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا: ’حافظ سعید دہشت گرد ہیں۔ کسی صحافی یا کسی دوسرے فرد کے ان سے ملنے سے حکومتِ ہند کا کوئی سروکار نہیں ہے۔‘

اترپردیش کی اہم پارٹی بہوجن سماج پارٹی کی صدر مایاوتی نے اس معاملے میں اعلیٰ سطحی تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔

وید پرتاپ ویدک نے بتایا ہے کہ وہ دو جولائی کو لاہور میں حافظ سعید سے ملے تھے۔

بھارت کا موقف ہے کہ جماعت الدعوۃ کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کا ہی دوسرا نام ہے۔

ویدک حافظ ملاقات کے معاملے پر بیان دیتے ہوئے بی جے پی کے نائب صدر مختار عباس نقوی نے کہا ہے کہ ’اس معاملے میں ویدک ہی بتائیں کہ اس ملاقات کا مقصد کیا تھا۔‘

دوسری جانب سماج وادی پارٹی کے سابق رہنما شاہد صدیقی نے اس ملاقات کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے کہا: ’ویدک صاحب رام دیو کے بے حد قریبی سمجھے جاتے ہیں اور وہ جا کر حافظ سعید سے ملیں اور ان کی عزت افزائی کریں، یہ ایک طرح سے حافظ سعید کو تسلیم کرنا ہے۔ حافظ سعید نے جس طرح سے دہشت گردی کا ساتھ دیا ہے، وہ بھارت اور پاکستان سمیت پوری دنیا، انسانیت اور اسلام کے لیے خطرہ ہیں۔‘

کانگریس رہنما دگ وجے سنگھ نے ٹوئٹر پر لکھا ہے: ’وید پرتاپ ویدک حافظ سعید سے ملے ہیں۔ اس بارے میں سوشل میڈیا پر کوئی رد عمل؟ کیا وہ این ڈی اے حکومت کے نمائندے کے طور پر گئے تھے یا پھر وزیر اعظم کے ذاتی نمائندے کے طور پر؟‘

اس سے پہلے بی بی سی کے فیصل محمد علی سے بات چیت میں وید پرتاپ ویدک نے کہا ہے کہ حکومت ہند ہی نہیں، خود ان کو بھی پہلے سے اس ملاقات کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں۔

وہ کس مقصد اور کس حیثیت کے تحت حافظ سعید سے ملے تھے؟ اس سوال کے جواب میں ویدک نے کہا: ’ایک صحافی کا مینڈیٹ کیا ہوتا ہے؟ ایک صحافی کا کام ہے کہ ہر کسی سے ملے، ان کی بات سنے اور اپنی بات کہے۔ میں نے دونوں باتیں کیں۔ میں نے حافظ سعید کی بات بھی سنی اور اپنی بات بھی کھل کر کہی۔‘

ویدک کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات اچانک ہوئی اور اس میں حکومت کسی طور پر شامل نہیں۔

وہ بھارت کے سیاسی رہنماؤں اور صحافیوں کے ہمراہ ایک تحقیقی ادارے کی دعوت پر پاکستان گئے تھے۔

اسی بارے میں