مجسمہ تو بنائیں لیکن کسی حسینہ کا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سردار پٹیل بھارت کے پہلے وزیر داخلہ تھے اور انھیں مرد آہن بھی کہا جاتا ہے

جب سے بھارتی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے گجرات میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کے دیو قامت مجسمے کے لیے 200 کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا ہے، وفاقی بجٹ میں بہت سے ایسے لوگوں کی دلچسپی بھی بڑھ گئی ہے جو پہلے صرف اس بات کی فکر کرتے تھے کہ انکم ٹیکس میں کچھ رعایت ملی یا نہیں، شراب مہنگی ہوئی یا سستی اور سگریٹ پر پھر کتنی ڈیوٹی بڑھی۔

’مرد آہن‘ کہلائے جانے والے سردار پٹیل ہندوستان کے پہلے وزیر داخلہ تھے اور قوم پرست جماعتیں سمجھتی ہیں کہ جواہر لال نہرو کے بجائے انھیں ہی ملک کا پہلا وزیر اعظم بنایا جانا چاہیے تھا۔

انھیں خراج عقیدت پیش کرنے کےلیے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی گجرات میں سردار پٹیل کا ایک ایسا مجسمہ بنانا چاہتے ہیں جس کے سامنے دنیا کے باقی سارے مجسمے چھوٹے پڑ جائیں۔ تخمینوں کے مطابق اس پراجیکٹ پر تقریباً ڈھائی ہزار کروڑ روپے خرچ ہوں گے لہٰذا مسٹر جیٹلی کا اعلان پہلی قسط سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔

لیکن مسٹر جیٹلی کی تجویز پر بہت سے لوگ تنقید کر رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کے اس زمانے کا مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کو اپنی رائے ظاہر کرنے کے لیے صرف اپنا فون اٹھانا پڑتا ہے۔ فون اٹھایا اور شروع ہوگئے اور اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ جن لوگوں کے کندھوں پر سوا ارب لوگوں کی ذمہ داری ہو، وہ بغیر سوچے سمجھے کوئی فیصلہ نہیں کرتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ہندوستان کی قوم پرست ہندو جماعتیں سردار پٹیل کو مرکزی حیثیت کا حامل تصور کرتی ہیں

مثال کے طور پر کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ پورے ملک میں عورتوں کی حفاظت کے لیے 150 کروڑ روپے اور مجسے کی پہلی قسط 200 کروڑ، بہت ناانصافی ہے۔

جن لوگوں کی تعلیم میں دلچسپی ہے انھوں نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے حکومت کی سکیم ’بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ‘ کی رٹ لگا رکھی ہے۔ ہماری بیٹیوں کے لیے 100 کروڑ اور مجسمے کے لیے 200 کروڑ۔ انھیں لگتا ہے کہ یہ بچیوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔

چاہے مدرسوں کی جدیدکاری ہو، کسانوں کے لیے الگ ٹی وی چینل کا اجرا یا تاریخی عمارتوں کا تحفظ، ایسی 29 سکیمیں ہیں جن کے ساتھ مسٹر جیٹلی نے برابر انصاف یا ناانصافی کی ہے۔ ان سب کے حصے میں 100- 100 کروڑ روپے آئے ہیں۔

بالی وڈ کی سٹار کالکی کوچلن نے بھی ایک دلچسپ تجویز پیش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر واقعی ہمیں 200 کروڑ روپے کا مجسمہ بنانا ہے تو یہ کسی حسینہ کا بت ہونا چاہیے تاکہ مرد ہمیں بخش کر اسے گھور سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بالی وڈ اداکارہ کلکی کوچلین نے مجسمے پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنی ہی قسم کی تجویز دے ڈالی

اخباروں میں اپنا وقت خراب کرنے کے بجائے انھیں یہ ’آؤٹ آف دی باکس‘ تجویز وزیر خزانہ کو بھیجنی چاہیے کیونکہ مسٹر جیٹلی کا دعویٰ یہ ہے کہ اس بجٹ میں انھوں نے صرف ایک عمومی سمت کا تعین کیا ہے، یہ آغاز ہے اختتام نہیں۔ لیکن بالی وڈ کے ستاروں کا مسئلہ یہ ہے کہ زمین سے ان کا واسطہ ذرا کم ہی پڑتا ہے، وہ آسمانوں میں ہی اڑنا پسند کرتے ہیں۔

لیکن ذرا سوچیے کہ جب یہ مجسمہ مکمل ہو جائے گا تو دنیا بھر سے ہندوستان آنے والوں کو کتنی سہولت ہو جائے گی۔ پائلٹ اور مسافر کھڑکی میں سے جھانکیں گے اور کہیں گے: ’ارے، دیکھو ہم ہندوستان پہنچ گئے!‘

پھر کبھی کوئی جہاز غلطی سے سری لنکا یا بنگلہ دیش نہیں پہنچے گا۔ اور چونکہ اس مجسمے میں اوپر تک جانے کے لیے لفٹ کا بھی انتظام ہوگا، لہٰذا محکمہ موسمیات والے لفٹ میں بیٹھ کر اوپر جائیں گےاور آخرکار موسم کا صحیح حال بتا سکیں گے۔ جب کبھی سیلاب آئے گا تو سیاسی رہنماؤں کو ہوائی جہاز میں بیٹھ کر سروے نہیں کرنا پڑےگا، جب سیٹلائٹ خلائی مدار میں پہنچانے کی بات ہوگی تو راکٹ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔۔۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کتنا پیسہ بچے گا۔ حکومتیں بغیر سوچے سمجھے کوئی فیصلہ نہیں کرتیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PIB
Image caption بھارت کے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اپنے پہلے بجٹ میں اس مجسمے کے لیے 200 کروڑ روپے مختص کیے ہیں

ویسے بھی بجٹ بنانا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ بڑے بڑے فیصلے کرنے پڑتے ہیں اور ہر فیصلے کے منفی اور مثبت مضمرات کو پہلے سے ہی پرکھنا پڑتا ہے۔ یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ ٹیکس دہندگان سے جو رقم حاصل ہوتی ہے اس کا بہترین استعمال کیسے کیا جائے تاکہ اقتصادی ترقی کی رفتار تیز ہو اور عوام کا معیار زندگی بلند کیا جاسکے۔

سردار پٹیل کا مجسمہ اسی سمت میں پہلا قدم ہے۔

مسٹر مودی نے گذشتہ برس کہا تھا کہ اگر سردار پٹیل پہلے وزیر اعظم بنے ہوتے تو ملک کی تقدیر اور شکل کچھ اور ہی ہوتی۔ سردار پٹیل تو نہیں رہے اس لیے شاید اب حکومت ملک کی تقدیر اور شکل بدلنے کے لیے ان کے مجسمے کا سہارا لینا چاہتی ہے۔

اسی بارے میں