کشمیری مساجد میں موبائل جیمر

Image caption سرینگر کی ایک بڑی مسجد میں بعض نمازیوں نے بتایا کہ انھیں معلوم نہیں تھا کہ وہاں ایسا کوئی آلہ نصب ہے

کشمیر کی اکثر مساجد میں جیمرز یعنی موبائل فون کے سگنل جام کرنے کے آلات نصب کیے گئے ہیں۔

رمضان کے دوران مساجد میں نمازیوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے، اور عین وقتِ نماز یا خطبے کے دوران موبائل فون کی گھنٹی بجنے سے لوگوں کی توجہ بٹ جاتی ہے۔ سرینگر شہر کی بعض مساجد میں اس مسئلے کا تدارک یہ کیا گیا ہے کہ مساجد کے منتظمین نے جیمر نصب کر دیے ہیں۔

جیمرز کا استعمال کشمیر میں نیا نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ، پولیس اور فوج کے اعلیٰ افسران کی گاڑیوں کا کاروان جب کسی شاہراہ سے گزرتا ہے تو پانچ سو میٹر کے دائرے میں موبائل فون کے سگنل جیم کر دیے جاتے ہیں۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ شدت پسند موبائل فون کے استعمال سے بارودی سرنگوں کے دھماکے کرتے ہیں، اس لیے ہر اہم کاروان کے ساتھ ایک مخصوص گاڑی ہوتی ہے جس میں جیمر لگے ہوتے ہیں۔

لیکن مسجدوں میں عام شہریوں کے لیے جیمر کا استعمال حیران کن انکشاف ہے۔

سرینگر کی ایک بڑی مسجد میں نمازیوں نے بتایا کہ انھیں معلوم نہیں تھا کہ وہاں کوئی ایسا آلہ نصب ہے۔ جاوید حسن نامی نوجوان نے بتایا ’حکومت کی طرف سے جب جیمر استعمال ہوتا ہے تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ وہ لوگ مظاہروں یا شدت پسندوں کے حملوں کو روکنے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ لیکن مسجدوں میں جیمر کے استعمال کا فیصلہ یکطرفہ ہے، مجھے لگتا ہے یہ جائز نہیں ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کشمیر میں موبائل فون صرف دس سال قبل متعارف کیا گیا

سرینگر کی ایک مرکزی مسجد کے امام و خطیب مولوی اخضر حسین جیمر کی تنصیب کے حامی ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’میں مدینہ میں تھا، تو مسجد نبوی میں نماز کے دوران کسی کا فون بجا۔ وہاں کے امام سیّد حذیفہ نے اسی وقت اس کے تدارک کے احکامات صادر کیے۔ اگر ٹیکنالوجی نظم و ضبط قائم کرنے میں معاون ہے تو اس میں کوئی شرعی رکاوٹ نہیں ہے۔‘

دینی عالم شوکت شاہین نے اس معاملے میں محتاط ردعمل ظاہر کیا۔ ان کا کہنا ہے: ’جیمر جس جگہ نصب کیا جائے اس کے پانچ سو میٹر کی حدود میں فون کے سگنل جامد ہوجاتے ہیں۔ اس کی زد میں مسجد کے آس پڑوس کے لوگ بھی آتے ہیں۔ مسجد میں نظم و ضبط کا نفاذ ترغیب سے ہونا چاہیے نہ کہ یکطرفہ پابندیوں سے۔ ایسی پابندیوں سے عام لوگ متاثر ہوتے ہیں۔‘

اب سوال یہ ہے کہ کیا ایک ایسا حساس آلہ عام شہری بھی استعمال کر سکتے ہیں جو اب تک صرف پولیس یا فوج کے استعمال میں تھا؟ جموں کشمیر پولیس کے ترجمان منوج کمار کہتے ہیں: ’اس میں کوئی قانونی پابندی نہیں ہے۔ کوئی بھی شخص اپنے گھر، مسجد یا کارخانے میں جیمر نصب کر سکتا ہے۔ البتہ اگر اس سے کسی کے کام میں خلل پڑے اور وہ شکایت کرے تو ہم اس شکایت پر عمل کر سکتے ہیں۔‘

قابل ذکر بات ہے کہ کشمیر میں موبائل فون کا استعمال کئی سال تک ممنوع تھا۔ صرف دس سال قبل یہاں موبائل فون کا استعمال متعارف کیا گیا۔ فی الوقت کشمیر میں 70 لاکھ نفوس کی آبادی کی ایک بہت بڑی تعداد موبائل فون استعمال کرتی ہے۔

علیحدگی پسندوں کی طرف سے مظاہروں یا احتجاجی مارچ کی کال دی جائے تو حکومت پوری وادی میں موبائل سگنل جام کر دیتی ہے۔ بھارت کے یوم آزادی اور یوم جمہوریہ کے مواقع پر بھی یہ قدغنیں نافذ ہوتی ہیں۔

اسی بارے میں