کشمیر: فوجی گاڑی کے حادثے میں سات ہلاک

Image caption کشمیریوں نے اس حادثے کے خلاف جمعرات کو ہڑتال اور جمعے کو احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی ہے

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں سرینگر مظفرآباد شاہراہ پر بدھ کی صبح ایک تیز رفتار فوجی گاڑی اور مسافر ٹیکسی کے درمیان شدید تصادم کے نتیجے میں سات افراد ہلاک ہوگئے۔

عینی شاہدین کے مطابق مقامی افراد اور راہگیروں نے اس حادثے کے خلاف شدید احتجاج کیا اور فوجی گاڑی کو نذرِ آتش کرنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے گاڑی تحویل میں لے کر فوج کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔

پولیس ترجمان منوج کمار نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تین افراد موقعے پر جبکہ چار مختلف ہسپتالوں میں علاج کے دوران ہلاک ہوئے۔

حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کے سربراہ سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں کثیر تعداد میں فوج کی موجودگی کشمیریوں کے لیے مسلسل خطرہ بن چکی ہے اور فوجی گاڑیاں قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے راہگیروں کو کچلتی رہتی ہیں۔

کشمیریوں نے اس حادثے کے خلاف جمعرات کو ہڑتال اور جمعے کو احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی ہے۔

حادثے کے فوراً بعد شالٹینگ کے گردونواح سے لوگوں کی بڑی تعداد شاہراہ پر جمع ہوگئی اور انھوں نے فوج مخالف مظاہرے کیے۔

مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے فائرنگ اور اشک آور گیس کا استعمال کیا جس میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعلی عمرعبداللہ نے ٹوئٹر پر لکھا: ’یہ ایک حادثہ تھا اور اسے حادثہ ہی سمجھا جائے۔ فوج نے جان بوجھ پر ایسا نہیں کیا۔‘

فوجی ترجمان نے بھی اس حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین کو نقد معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں کا کہنا ہے کہ 25 سالہ مسلح شورش کے دوران فوجی گاڑیوں کی زد میں آ کر کل 868 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

خیال رہے کہ فوجی گاڑی نے جس شاہراہ پر مسافر ٹیکسی کو روندا وہ سرینگر کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے ساتھ ملاتی ہے۔

شمالی کشمیر کے بارہ مولہ، کپوارہ اور بانڈی پورہ اضلاع کو بھی یہی شاہراہ سرینگر کے ساتھ منسلک کرتی ہے۔ ان اضلاع میں بھارتی فوج کی 28 موٹین ڈویژن، ہائی آلٹیچیوڈ وارفئیر سکول، کشن گنگا نیوی بیس اور دیگر اہم دفاعی تنصیبات ہیں۔

اس کے علاوہ فوج ان اضلاع سے گزرنے والی 740 کلومیٹر طویل لائن آف کنٹرول پر بھی تعینات ہے۔

ان فوجی تنصیبات تک رسد پہنچانے کا واحد زمینی راستہ یہی سرینگر مظفرآباد شاہراہ ہے۔ اس کی وجہ سے اس شاہراہ پر فوجی گاڑیوں کی بھاری تعداد روزانہ سفر کرتی ہے۔

فوجی کی گاڑیوں کو شہروں اور قصبوں کے بیچ یا بڑی شاہراہوں پر سفر کے دوران ضبط کا پابند بنانے کی سفارش من موہن سنگھ کی سابق حکومت کے دوران قائم کیے گئے کشمیر ورکنگ گروپ نے بھی کی تھی۔

بارہ مولہ کے ایک شہری عبدالصمد کہتے ہیں: ’فوج تو اپنے آپ میں ایک حکمران تنظیم ہے۔ یہاں تو سول حکومت کے قوانین ان پر نافذ ہی نہیں ہوتے۔ پورے شمالی کشمیر میں فوج کی اپنی علیحدہ ٹریفک پولیس ہے، یہاں تک کہ فوج کا کشمیر میں قانونی مواخذہ تک نہیں ہو سکتا۔‘

دریں اثنا جموں کے کشتواڑ ضلعے میں ایک مسافر ٹیکسی حادثے کا شکار ہوکر دریائے چناب میں جاگری جس کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔

اسی بارے میں