’ہم کیوں مر رہے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ہندوستان کی جنوبی ریاست کرناٹک کے ایک چھوٹے سے لیکن بے پناہ خوبصورت گاؤں میں اشوک کمار گھر گھر جا کر کچھ عجیب و غریب سوال پوچھ رہے ہیں۔

گذشتہ چھ مہینوں میں کسی کی موت تو نہیں ہوئی؟ اگر ہوئی تو کن حالات میں؟ مرنے والے کو کیا بیماری تھی؟ علاج کہاں چل رہا تھا؟ بلڈ پریشر، ذیابطیس، یا ایچ آئی وی ایڈز جیسی کوئی بیماری تو نہیں تھی؟ شراب یا سگریٹ کا شوق تھا، اور اگر ہاں تو کس حد تک؟

اشوک کمار محکمہ مردم شماری کے ملازم ہیں، سوالات کی فہرست لمبی ہے، بات چیت مقامی کنڑ زبان میں ہو رہی ہے اور میں خاموش تماشائی ہوں۔

وہ بیچ بیچ میں رک کر انگریزی میں مجھے بتاتے ہیں کہ انھوں نے کیا پوچھا اور کیا جواب ملا۔

جب تک بات چیت ختم ہوتی ہے مجھے بھی یہ اندازہ ہونے لگتا ہے کہ موت کی ممکنہ وجہ کیا رہی ہوگی۔

زبانی پوسٹ مارٹم

یہی ’ملین ڈیتھس سٹڈی‘ کا مقصد ہے جس کے تحت ’زبانی پوسٹ مارٹم‘ کے ذریعے وفاقی حکومت اور ایک غیر سرکاری ادارہ ’سینٹر فار گلوبل ہیلتھ ریسرچ‘ یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ملک میں لوگ کن بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ ان کے مرنے کا سبب کیا ہے؟ اس غیر معمولی پراجیکٹ کے تحت ملک کے کچھ مخصوص علاقوں میں دس لاکھ لوگوں کی موت کی ممکنہ وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور یہ تحقیق اب اپنے آخری مراحل میں ہے۔

دنیا بھر میں ہر سال تقریباً ساڑھے پانچ کروڑ لوگوں کی موت ہوتی ہے لیکن ترقی پذیر ممالک میں اکثر موت کی وجہ معلوم نہیں ہو پاتی۔

سینٹر فار گلوبل ہیلتھ ریسرچ کے سربراہ ڈاکٹر پربھات جھا کہتے ہیں کہ انڈیا جیسے ملکوں میں زیادہ تر اموات گھر پر ہی ہوتی ہیں اور موت کا سبب کبھی معلوم نہیں ہو پاتا۔

’میرے دادا کا انتقال چوّن سال کی عمر میں اچانک گھر پر ہی ہوا تھا۔ بیس سال کے بعد جب میں نے اپنی دادی سے ان کی موت کے بارے میں پوچھا تو انھیں سب کچھ یاد تھا۔ انھوں نے بتایا کہ دادا غصل خانے میں تھے، اچانک چیخے اور وہیں گر گئے۔ ان کے جسم کا دایاں حصہ کام نہیں کر رہا تھا۔ کہانی سن کر میں نے فوراً کہا کہ انھیں شاید سٹروک ہوا تھا۔‘

’تب میرے ذہن میں زبانی پوسٹ مارٹم کا خیال آیا اور میں نے حکومت سے رابطہ کیا۔ اگر ہمیں یہ معلوم ہو کہ لوگ کن بیماریوں کی وجہ سے مر رہے ہیں تو حکومت کی پالیسیوں اور حفظان صحت کے نظام میں ان بیماریوں پر زیادہ توجہ دی جاسکتی ہے۔‘

ڈاکٹر جھا کا خیال ہے کہ تحقیق دو ہزار چودہ میں مکمل ہوجائے گی اور اس کے نتائج یکجا کرنے میں ایک دو سال کا وقت اور لگے گا۔ لیکن تحقیق کے دوران ہی بہت سے حیرت انگیز نتائج سامنے آئے ہیں۔ مثال کے طور پر ملک میں ملیریا سے مرنے والے لوگوں کی تعداد ڈبلو ایچ او کے تخمینوں سے تیرہ گنا زیادہ ہیں!

لیکن عالمی ادارہ صحت ان اعداد و شمار سے متفق نہیں ہے۔ انڈیا میں ادارے کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ تعداد غیرمعمولی طور پر زیادہ اور جو نتائج اخذ کیے گئے ہیں ان کی مزید تفتیش کی جانی چاہیے۔ ’ کیونکہ بخار صرف ملیریا کی وجہ سے ہی نہیں ہوتا۔‘

تحقیق سے وابستہ ڈاکٹر سریش راٹھی کہتے ہیں کہ سانپ کے کاٹنے سے مرنے والوں کی تعداد نے بھی انھیں حیرت میں ڈال دیا۔ ’ڈبلیو ایچ او کے مطابق پوری دنیا میں ہر سال پچاس ہزار لوگ سانپ کے کاٹنے سے مرتے ہیں، ہماری ریسرچ کے مطابق صرف ہندوستان میں ہی مرنے والوں کی تعداد اس سے زیادہ ہے۔‘

موت کا سبب

اشوک کمار اور ان کے تقریباً ایک ہزار دیگر تربیت یافتہ ساتھی جو معلومات اکٹھی کرتے ہیں وہ دو مختلف ڈاکٹروں کو بھیجی جاتی ہیں اور ان معلومات کی بنیاد پر وہ موت کی ممکنہ وجہ کا تعین کرتے ہیں۔ اگر وہ اتفاق نہیں کر پاتے تو ایک سینیئر ڈاکٹر کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔

موت کا سبب معلوم ہونے سے وسائل کے بہتر استعمال کی راہ ہموار ہوتی ہے، اور الگ الگ علاقوں میں جن بیماریوں کا زیادہ زور ہے وہاں انھیں کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔

پروفیسر جھا کہتے ہیں کہ ’مرنے والے کی زندگی کا جائزہ لینے سے آپ کو موت کی وجہ بھی معلوم ہوتی ہے اور لوگوں کی زندگی بہتر بنانے کا موقع بھی ملتا ہے۔‘

وہ سگریٹ نوشی کی مثال دیتے ہیں جسے کنٹرول کرنے کے لیے اب حکومت نے سخت اقدامات کیے ہیں۔ ہندوستانی فلموں میں سگریٹ نوشی کے مناظر پر پہلے سے ہی پابندی ہے اور حالیہ بجٹ میں حکومت نے سگریٹ پرڈیوٹی میں بھاری اضافہ کیا ہے۔

پروفیسر جھا کا دعویٰ ہے کہ ہندوستان میں سگریٹ نوشی کرنے والوں کی عمر اوسطاً دس سال کم ہوجاتی ہے۔

اگرچہ بہت سے ماہرین مانتے ہیں کہ ’زبانی پوسٹ مارٹم‘ میں غلطی کی گنجائش رہتی ہے لیکن لندن سکول آف ہائیجین سے وابستہ ڈاکٹر سنجے کنرا، جن کا اس تحقیق سے کوئی تعلق نہیں ہے، کہتے ہیں کہ ملین ڈیتھس سٹڈی سے ہندوستان کو فائدہ ہوگا۔

’یہ ایک اچھی کوشش ہے ۔۔۔ لیکن حکومت کو ایک ایسا نظام وضع کرنا چاہیے جس میں ہر موت کا رجسٹریشن لازمی ہو ۔۔۔ صرف کچھ مخصوص علاقوں میں نہیں۔‘

پروفیسر جھا کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میں لوگ کھل کر بات کرتے ہیں، چاہے موت خود کشی سے ہوئی ہو یا ایڈز جیسی کسی بیماری سے۔ اور موت چونکہ ذہن پر گہرا نقش چھوڑتی ہے اس لیے لوگوں کو تفصیلات برسوں تک یاد رہتی ہیں۔

تو کیا ہر وقت موت کے ذکر سے انہیں کوئی پریشانی نہیں ہوتی؟ وہ کہتے ہیں کہ ’میرا اصول یہ ہے کہ جو گزر گئے ہیں ان کی زندگی کا مطالعہ کرو تاکہ جو زندہ ہیں ان کی مدد کی جاسکے۔‘

اسی بارے میں