افغانستان: ووٹوں کی پڑتال کا کام معطل

Image caption کابل کے صدارتی محل میں صدر حامد کرزائی دس برس گزار چکے ہیں

افغانستان الیکشن کمیشن نے ملک میں حالیہ صدارتی انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی پڑتال کا کام معطل کر دیا ہے۔

افغانستان کے آزاد الیکشن کمیشن نے بغیر وضاحت کیے کہا ہے کہ یہ عمل غلط فہمیوں کی بنیاد پر روکا جا رہا ہے۔

اس سال جون میں صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان مقابلہ ہوا تھا اور دونوں نے ایک دوسرے پر انتخابی بے قاعدگیوں کے الزامات عائد کئے تھے۔

دونوں امیدواروں کے درمیان تلخیوں کی وجہ سے انتخابی عمل خطرے میں پڑ جانے کے بعد امریکی وزیر خارجہ جان کیری کو مداخلت کرنا پڑی تھی اور اسی لاکھ ووٹوں کی پڑتال کی شرط پر تصفیہ ہوا تھا۔ ووٹوں کی پڑتال کے دوران وقتاً فوقتاً اختلافات کی وجہ سے امیدوار بار بار واک آؤٹ کرتے رہے۔

دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کے ابتدائی نتائج کے بعد سابق وزیر خزانہ اشرف غنی کو پچاس فیصد سے زیادہ ووٹ پڑے تھے جبکہ سابق وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ کے ووٹ پچاس فیصد سے کم رہے تھے۔

پڑتال کے عمل کے معطل ہونے پر مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ملک کے سیاسی عمل کو عدم استحکام کا شکار کردے گا جو پہلے ہی طالبان کی شورش کا شکار ہے۔

افغانستان کے الیکشن کمیشن نے چار دن قبل ہی اسی لاکھ ووٹوں کی پڑتال کا کام شروع کیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے دونوں امیدواروں کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کی تفصیل بیان نہیں کی۔

کابل میں بی بی سی کی نامہ نگار کیرن ایلن نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ہفتے کو ووٹوں کی پڑتال کے طریقہ کار پر اعتراض کرتے ہوئے اشرف غنی کے نمائندوں نے مختصر وقت کے لیے واک آوٹ کیا۔

ایلن کا کہنا ہے کہ اب جبکہ 23000 بیلٹ بکسوں میں سے صرف چند کی پڑتال ہو سکی ہے دونوں امیداوروں کے درمیان اب بھی پڑتال کے طریقہ کار پر اعتراضات ہیں۔

امریکہ کے خصوصی نمائندے جیمز ڈوبنز افغانستان پہنچ گئے ہیں جہاں وہ ووٹوں کی پڑتال مکمل ہونے کے بعد دونوں امیدواروں سے سیاسی عمل کو آگے بڑھانے اور ایک قومی حکومت کی تشکیل کے لیے فضا ساز گار کرنے کے لیے بات چیت کریں گے۔

درین اثنا افغانستان کے انتخابی مبصرین کے سربراہ نادر نادرے نے خبردار کیا ہے کہ اگر پڑتال کے عمل میں رخنے پڑتے رہے تو یہ توقع سے زیادہ وقت لے سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس عمل کے معطل ہو جانے سے قومی یکجہتی کی حکومت تشکیل دینے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

دوسری طرف طالبان نے بھی افغانستان سکیورٹی فورسز کا امتحان لینے کی ٹھان رکھی ہے اور حالیہ ہفتوں میں انھوں نے جنوبی صوبے ہلمند میں ایک بڑا حملہ شروع کر رکھا ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ غیر ملکی فوجوں کے انخلا کے بعد ہی یہ پتا چلے گا کہ گذشتہ دس سال کی تربیت اور ارب ڈالروں کے اخراجات سے کھڑی کی جانے والی افغانستان نیشنل آرمی کس قابل ہے۔

افغانستان کے موجودہ صدر حامد کرزائی دس سال بعد اقتدار میں رہنے کے بعد اپنے عہدے سے علیحدہ ہو رہے ہیں۔

اسی بارے میں