جھارکھنڈ میں بیویوں کے قتل کی لہر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption قبائلی علاقوں میں نشہ کرنے کی لت، غربت اور ناخواندگی کی وجہ سے اس طرح کے تشدد کے واقعات ہوتے ہیں

بھارت کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ کے قبائلی علاقوں میں حالیہ دنوں میں شوہر کے ہاتھوں بیویوں کے قتل کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جس پرگہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

سماجی کارکنوں نے خاندانوں کے بکھرنے اور معاشرے میں اس طرح کے بڑھتے تشدد پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غربت، ناخواندگی اور نشے کی لت اس طرح کے تشدد کی بنیادی وجوہات ہیں۔

ریاست کے پولیس حکام کے مطابق گذشتہ ڈیڑھ ماہ کے اندر اندر بعض خاص قبائلی علاقوں میں کم سے کم ایک درجن خواتین کو خود ان کے شوہروں نے ہی قتل کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ریاست کے مغربی سیہ بھوم، کھونٹی، دمکا، رانچی، اور سمڈیگا جیسے اضلاع کے گاؤں میں اس طرح کے واقعات کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

چند روز پہلے ہی اسی طرح کے دو نئے واقعات دیکھنے کو ملے۔ گملا ضلع کے رائے ڈيہہ کے علاقے میں ہیساگ چیروٹولی گاؤں کے برسا اوراؤں یومیہ مزدوری کرتے ہیں۔

مبینہ طور پر رات کو برسا نے اپنی بیوی اور ایک بچّی کو کلہاڑی سے حملہ کر کے قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق دوسری بچی کی رونے کی آواز سن کر وہ فرار ہوگئے لیکن بعد میں پولیس نے انھیں گرفتار کر لیا۔

دوسرا واقعہ رانچی ضلع کے بگدرہا پتراگاؤں کا ہے۔ کیلاش لكڑا نامی ایک شخص نے مبینہ طور پر اپنی بیوی سوشیلا کو قتل کرنے کے بعدان کی لاش کو دو دن تک گھر میں چھپائے رکھا۔

بتایا جاتا ہے کہ اسی کمرے میں پانچ سال کے بیٹے کو بھی بند کر کے رکھا گیا تھا۔ بعد میں پولیس نے کیلاش کو پکڑ لیا، لیکن وہ پولیس کی حراست سے فرار ہو گئے۔ پولیس کو پتہ چلا ہے کہ ان کی بیمار بیوی انھیں شراب پینے سے منع کرتی تھیں۔

مغربی سہ بھوم ضلع کے ایس پی نریندر سنگھ بتاتے ہیں کہ ’بیویوں کے ساتھ تشدد کے بڑھتے یہ واقعات واقعی تشویش ناک ہیں۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ قبائلی علاقوں میں نشہ کرنے کی بری لت، غربت اور ناخواندگی کی وجہ سے اس طرح کے تشدد کے واقعات ہوتے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق زیادہ تر واقعات میں ’ہتھیار کے طور پر کلہاڑی کا استعمال کیا جاتا ہے۔‘

بہت سے معاملات میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ایسے افراد بیوی اور بچے کو قتل کرنے کے بعد خود تھانے میں آ کر پوری کہانی بیان کرتے ہیں اور خود کو پولیس کے حوالے کر دیتے ہیں۔

سہ بھوم علاقے میں سماجی امور پر نظر رکھنے والی ایک خاتون کارکن شانتی سویّہ بتاتی ہیں: ’غریبی، ناخواندگی، قدامت پسندی اور نشے کی لت کی وجہ سے اب رشتوں کے خون زیادہ ہو رہے ہیں۔ اس وقت ان مسائل سے دو چار قبائلی معاشرہ اور خاندان بحران کا شکار ہیں۔‘

شانتی کے مطابق بیوی کے ساتھ معمولی تنازع اور ذرا سی نوك جھونک کا نتیجہ بھی خوفناک ہوتا جا رہا ہے اور بہت سی خواتین اسی وجہ سے قتل کی جا چکی ہیں۔

اسی بارے میں