ہندو تنظیموں کی چوطرفہ یلغار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بڑے بڑے اخبارات اور ٹی وی چینلز مودی حکومت پر نکتہ چینی سے گریز کرنے لگے ہیں

حال میں چھتیس گڑھ ریاست کے دو اضلاع میں تقریباً 50 پنچایتوں نے اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنی دیہی حدود میں کسی غیر ہندو مشنری، مبلغ یا مذہبی رہنماکو نہیں داخل ہونے دیں گی۔

یہی نہیں بعض پنچایتوں نے عیسائیوں کے لیے سرکاری راشن کی دکانوں سے خریداری پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ اقدام ان پنچایتوں نے اس وقت اٹھائے جب کچھ عرصے قبل بعض ہندو تہواروں کے لیے مقامی عیسائیوں نے چندہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔

گذشتہ پندرہ دنوں میں اترپردیش کے مشرقی شہر جونپور اور مغربی شہر بلند شہر میں عیسائیوں کے دوگرجا گھروں پر ہندو تنظیموں کے کارکنوں نے حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں گرجا کے پادری اور دعائیہ تقریب میں شامل لوگوں کو بری طرح مارا پیٹا گیا۔ اس کے ساتھ ہی یسوع مسیح اور حضرت مریم کے مجسموں کو بھی توڑا گیا اور مذہبی کتابوں کی بے حرمتی کی گئی۔

گجرات کے ایک شہر پالیٹانا کی میونسپلٹی نے گوشت خوروں کی اکثریت ہونے کے باوجود پورے شہر کو سبزی خور بنانے کی قرارداد منظور کی ہے۔ بعض مقامی لوگ پالیٹانا کی حدود میں گوشت کے فروخت اور کھانے کو جرم قرار دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ریاستی حکومت نے یقین دلایا ہے کہ وہ شہر کو مکمل طور پر سبزی خور قرار دینے کی قرار داد کو نافذ کرے گی۔

گذشتہ دنوں مغربی ساحلی ریاست گوا میں بی جے پی کے ایک وزیر نے کہا کہ جس طرح نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کوفتح حاصل ہوئی ہے اگر عوام نے اسی طرح اپنی حمایت جاری رکھی تو جلد ہی نریندر مودی بھارت کو ایک ہندو راشٹر بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

ایک دوسرے وزیر نے کہا بھارت تو پہلے ہی ہندو راشٹر بن چکا ہے اور یہاں رہنے والے سبھی لوگ ہندو ہیں۔

وشو ہندو پریشد کے بزرگ رہنما اشوک سنگھل نے کہا کہ بی جے پی کو اپنے طور پر واضح اکثریت ملنے سے یہ واضح ہے بھارت میں مسلم سیاست کا دور ختم ہوچکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ مسلمان اب ہندوؤں کے جذبات کا احترام کریں ورنہ ان کا وجود زیادہ دنوں تک باقی نہیں رہےگا۔ جذبات کے احترام میں انھوں نے بابری مسجد سے دست بردار ہونے کے علاوہ بنارس کی گیان واپی مسجد اور متھرا کی عیدگاہ ہندوؤں کے حوالے کرنے کو بھی شامل کیا ہے۔

نریندر مودی کی حکومت کے قیام کے بعد بھارت کے کلیدی تحقیقی اداروں کے سربراہ کے عہدوں پر ایسے افراد کو مقرر کیا گیا ہے جو واضح طور پر ’ہندوئيت‘ حامی نظریات کے حامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سکولوں کی نصابی کتابوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی جانے والی ہیں۔ ملک کی تاریخ کو از سر نو لکھنے کی تیاریاں چل رہی ہیں۔

Image caption وشو ہندو پریشد کے بزرگ رہنما اشوک سنگھل نے کہا کہ بی جے پی کو اپنے طور پر واضح اکثریت ملنے سے یہ واضح ہے بھارت میں مسلم سیاست کا دور ختم ہوچکا ہے

بڑے بڑے اخبارات اور ٹی وی چینلز مودی حکومت پر نکتہ چینی سے گریز کرنے لگے ہیں۔

بھارت میں ان دنوں شاید ہی کوئی ایسا دن ہو جب بی جے پی اور اس کی اتحادی تنظیموں کی جانب سے ہندوئیت پرمبنی کوئی نہ کوئی متنازع بیان نہ آتا ہو۔

حکمراں بی جے پی یا تو ان بیانات پر خاموشی اختیار کر لیتی ہے یا پھر تنازع زیادہ بڑا ہونے پر اس سے وہ لا تعلقی اختیار کر لیتی ہے۔

تجزیہ کار، میڈیا اور متوسط طبقے کی سوچ یہ ہے کہ ہندو تنظیموں کی یہ چار طرفہ یلغار ان تنظیموں کی اپنی انفرادی حرکت ہے اور اسے مودی حکومت کی منطوری حاصل نہیں ہے۔ ان کا خیال ہے کہ مودی حکومت کو عوام نے ترقی اور مثبت تبدیلی کے لیے ووٹ دیا ہے اور حکومت عوام کے اس مینڈیٹ کی نوعیت سے اچھی طرح باخبر ہے۔

لیکن اگر ان ماورائے آئین بیانات اور نفرت پرمبنی غیر جمہوری اور غیر آئینی سرگرمیوں پر جلد قدغن نہ لگائی تو اس سے مودی حکومت کے بارے میں عوام کے مثبت تصورات ڈگمگانے لگیں گے اور خود وزیر اعظم کے ترقی اور تبدیلی کے اپنے مشن کو بھی سخت چوٹ پہنچے گی۔

اسی بارے میں