بی جے پی کے سابق صدر کے گھر کی ’جاسوسی‘ پر تنازع

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارت میں جاسوسی کے لیے ’ٹیپنگ یا بگنگ‘ کے الزامات نئے نہیں ہیں

بھارت کے وزیرِ داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ وفاقی وزیر اور بی جے پی کے سابق صدر نتن گڈکری کے گھر سے ایسے آلات ملے ہیں جن سے ان کی بات چیت خفیہ طور پر سنی جاسکتی تھی۔

راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ گڈکری نتن خود اس خبر کی تردید کرچکے ہیں لہٰذا اس سلسلے میں وہ مزید کچھ نہیں کہیں گے۔

بھارت کی حزبِ اختلاف کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی تفتیش کے ساتھ ساتھ اس پر پارلیمان میں بحث کرائی جانی چاہیے۔

یہ تنازع انگریزی کے ایک اخبار کی اس خبر سے شروع ہوا تھا کہ وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈکری کے گھر سے جاسوسی کے آلات ملے ہیں لیکن پہلے خود گڈکری نے ٹوئٹر پر کہا کہ یہ محض قیاس آرائی ہے اور پھر وزیر داخلہ نے ان خبروں کی تردید کی۔

خیال رہے کہ نتن گڈکری ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کے بہت قریب ہیں۔

بھارت میں جاسوسی کے لیے ’ٹیپنگ یا بگنگ‘ کے الزامات نئے نہیں ہیں۔

کانگریس کی حکومت کے دوران بھی وزرا کی جاسوسی کے الزامات سامنے آئے تھے۔

فوج کے سابق سربراہ جنرل وی کے سنگھ اور وزارتِ دفاع کے درمیان ان کی عمر کے تنازع پر کشیدگی کے دوران بھی طرح طرح کی قیاس آرائی اور الزامات گردش کر رہے تھے لیکن کبھی ثابت کچھ نہیں ہوا۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار رام بہادر رائے کہتے ہیں ’جاسوسی کے الزامات نئے نہیں ہیں، خود آئی بی کے ایک افسر نے یہ اعتراف کیا تھا کہ اس وقت کی وزیرِاعظم اندرا گاندھی کے کہنے پر ان کی بہو مینکا گاندھی کی جاسوسی کی گئی تھی۔‘

بی جے پیت کے لیڈر ایل کے اڈوانی نے بھی کانگریس کی حکومت پر ان کا فون ٹیپ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

اخبار کی رپورٹ کے بعد سیاسی رہنماؤں کی مبینہ جاسوسی کا معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں آ گیا ہے۔

بی جے پی کے رہنما سبرامنیم سوامی نے کہا کہ اس مبینہ واقعہ سے کانگریس کا تعلق ہوسکتا ہے۔

سبرامنیم سوامی کا اشارہ ان الزامات کی جانب تھا کہ امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی جاسوسی کر رہی تھی اور اس میں کانگریس حکومت کی رضامندی شامل تھی تاہم کانگریس اس الزام سے انکار کرتی ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ اس پورے معاملے کی تفتیش کرائی جانی چاہیے۔

رام بہادر رائے کہتے ہیں کہ جب تک خفیہ اداروں کو وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ پارلیمان کو بھی جوابدہ نہیں بنایا جاتا جاسوسی کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔

پارلیمان کا اجلاس عید کے بعد دوبارہ شروع ہوگا اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کی تردید کے باوجود حزبِ اختلاف یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے گی کہ جاسوسی کا یہ مبینہ واقعہ بی جے پی کی اندرونی چپقلش کا نتیجہ تھا اور اسی وجہ سے حکومت باقاعدہ تفتیش کرانے سے ہچکچا رہی ہے۔

اسی بارے میں