امریکہ بھارتی قیادت کا خاتمہ کر سکتا ہے: سابق وزیرِ خارجہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نٹور سنگھ گاندھی نہرو خاندان کے بہت قریبی رہے, پہلے وہ راجیو گاندھی اور پھر کانگریس صدر سونیا گاندھی کے معتمد رہے

بھارت کے سابق وزیر اعظم من موہن کو خدشہ تھا کہ امریکہ بھارت سمیت بعض ممالک کو غیر مستحکم کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے، ’یہاں تک کہ وہ ملک کی قیادت کا خاتمہ تک کروا سکتا ہے۔‘

بھارت کے سابق وزیر خارجہ اور کانگریس رہنما نٹور سنگھ نے یہ بات بی بی سی ہندی سے ایک خصوصی انٹرویو کے دوران کہی۔

تاہم حال ہی میں شائع ہونے والی ان کی خودنوشت ’ون لائف از ناٹ انف‘ یعنی ’ایک جنم ناکافی‘ میں ’قیادت کے خاتمے‘ والی بات کا ذکر نہیں ہے۔

بہر حال بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے نٹور سنگھ نے کہا کہ بھارت کی سیاست کو متاثر کرنے میں امریکہ کا کردار رہتا ہے۔

انھوں نے اپنی خونوشت میں لکھا ہے: ’امریکی لابی نے وزیر خارجہ کے طور پر میری تقرری میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔‘

نٹور سنگھ نے بی بی سی کو بتایا: ’من موہن نے مجھ سے خود کہا کہ بھئی آپ کو وزیر خارجہ بنانے میں مجھے بہت مشکل ہو رہی ہے کیونکہ امریکی آپ کے خلاف ہیں۔‘

ان سے پوچھا گیا کہ کیا بھارت جیسے جمہوری ملک کے وزیر اعظم اپنی کابینہ میں وزیر کی تقرری کے بارے میں ایسی بات کہہ سکتا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نٹور سنگھ کی خودنوشت ’ون لائف از ناٹ انف‘ یعنی ایک جنم ناکافی میں ’قیادت کے خاتمے‘ والی بات کا ذکر نہیں ہے

تو نٹور سنگھ کا جواب تھا: ’انھوں نے (من موہن سنگھ نے) صرف یہی نہیں کہا کہ (امریکی) ہمارے ملک کو غیر مستحکم کر دیں گے، آپ کے خلاف ہیں، (بلکہ یہ بھی کہا کہ) وہ ہماری قیادت کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔‘

نٹور سنگھ کا کہنا ہے: ’اس وقت بڑے ملکوں میں سی آئی اے کی دراندازی بہت زیادہ ہے۔ یہاں (بھارت میں) ان کے 125 سے 130 سفارت کار ہیں، ان میں سے 20 فیصد سي آئی اے کے ایجنٹ ہیں۔ امریکی تو اس سے انکار کریں گے ہی۔‘

ان کی سوانح حیات گذشتہ جمعے کو شائع ہوکر منظر عام پر آئی ہے جس نے کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کو اس قدر برگشتہ کیا کہ انھوں نے اس کے جواب میں ایک کتاب لکھنے کی بات کہہ ڈالی۔

اس کتاب میں سابق وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے سفارت کار کے طور پر اپنے کریئر اور بعد میں سیاست میں گزارے سال کے بارے میں بہت سی رازدارانہ اور دلچسپ معلومات فراہم کی ہیں۔

Image caption نٹور سنگھ کی خودنوشت نے کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کو اس قدر برگشتہ کیا کہ انھوں نے اس کے جواب میں ایک کتاب لکھنے کی بات کہہ ڈالی

نٹور سنگھ گاندھی نہرو خاندان کے بہت قریبی رہے ہیں۔ پہلے وہ راجیو گاندھی اور پھر کانگریس صدر سونیا گاندھی کے معتمد رہے۔

لیکن عراق پر امریکی حملے کے بعد ان کے بیٹے جگت سنگھ پر عراق میں تیل کے بدلے خوراک پروگرام میں بدعنوانی کے الزامات کے نتیجے میں نٹور سنگھ کو وزیر خارجہ کے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا۔

اس وجہ سے نٹور سنگھ اور گاندھی خاندان میں دوریاں بڑھ گئیں اور اب اپنی آپ بیتی میں انھوں نے سونیا گاندھی اور من موہن سنگھ پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔

اس پر سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ وہ بھی ایک کتاب لکھ کر پورا سچ سامنے رکھیں گی۔

اسی بارے میں