بھارت: انٹرنیٹ کے عادی نوجوانوں کے لیے سینٹر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بچے سونے اور کھانا کھانے سے بھی انکار کر دیتے ہیں اور انھیں فکر ہوتی ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر انھیں کتنی پذیرائی مل رہی ہے: والدین

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں انٹرنیٹ کے عادی نوجوانوں کی مدد کے لیے ایک سینٹر قائم کیا گیا ہے۔

بھارتی اخبار’ دی ہندوستان ٹائمز‘ کے مطابق ایسے نوجوان اور بچے جو حد سے زیادہ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں ان کی نگہداشت کے لیے ’اودھے فاؤنڈیشن‘ کے نام سے ایک خصوصی سینٹر قائم کیا گیا ہے۔

ادارے کے ایک رکن راہول ورما کا کہنا ہے کہ اس وقت سینٹر میں 60 بچے موجود ہیں جنھیں روایتی کھیل کود، باہمی رابطوں اور میل جول کے طریقے سکھائے جا رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بہت سے والدین اپنے بچوں کو اس ادارے میں لا رہے ہیں جن کا کہنا ہے کہ بچے باہر کیھل کی سرگرمیوں کی بجائے اکیلے بیٹھ کر سمارٹ فونز پر وقت گزارتے ہیں۔

والدین یہ بھی شکایت کرتے ہیں کہ اکثر اوقات ان کے بچے سونے اور کھانا کھانے سے بھی انکار کر دیتے ہیں اور انھیں یہ فکر ہوتی ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ان کی جانب سے لگائی گئی تحریریں اور دیگر مواد کس قدر پڑھا اور دیکھا جا رہا ہے اور اسے کتنی پذیرائی مل رہی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ CCITD
Image caption نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائینسز نے بنگلور میں بھی کچھ عرصہ قبل اسی قسم کا سینٹر کھولا تھا

بچوں کو انٹرنیٹ کے سحر سے آزاد کرنے اور معمول کی زندگی کی جانب واپس لانے کے لیے قائم یہ ادارہ انھیں مختلف مشاغل جن میں مختلف کھیل، یوگا اور پڑھنے کی عادت کی جانب راغب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ادارے کی عمارت پر لکھے پیغامات میں سے ان بچوں اور نوجوانوں کو گھر سے باہر کے ماحول میں موجود تفریح کی جانب مائل کرنے کے لیے پوسٹرز لگائے گئے ہیں۔

’زندگی اس وقت زیادہ خوبصورت تھی جب ایپل اور بلیک بیری صرف پھل تھے۔‘

نئی دہلی میں موجود ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر آن لائن رہنے والے بچوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائینسز نے بنگلور میں بھی کچھ عرصہ قبل اسی قسم کا سینٹر کھولا تھا۔

ادارے کی جانب سے اکھٹے کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق بنگلور میں 73 فیصد نوعمر بچے ایسے ہیں جو انٹرنیٹ کے بے جا استعمال کی وجہ سے نفسیاتی تکالیف میں مبتلا ہیں۔

والدین کا کہنا ہے کہ ان کے بچوں پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں اور اب اگر وائی فائی کام نہ کر رہا ہو تو بھی مشتعل نہیں ہوتے۔

اسی بارے میں