44 بھارتی نرسیں لیبیا سے وطن واپس پہنچ گئیں

تصویر کے کاپی رائٹ MEA
Image caption دو دن قبل کل 58 بھارتی نرسیں طرابلس سے تیونس پہنچی تھیں جن میں سے 44 نرسوں کا پہلا دستہ وطن پہنچ گیا ہے

حکام کا کہنا ہے کہ لیبیا کے تشدد زدہ علاقے میں پھنسی 40 سے زیادہ بھارتی نرسوں کا ایک گروپ منگل کو وطن لوٹ آیا ہے۔

یہ بھارتی نرسیں لیبیا کے مختلف ہسپتالوں میں ملازمت کر رہی تھیں اور دو دن قبل وہ تیونس پہنچیں تھی۔

منگل کی صبح وہ جنوبی ہند کی ریاست کیرالہ کے کوچی ایئرپورٹ پہنچیں۔

واضح رہے کہ شمالی افریقی ملک لیبیا میں متحارب گروہوں میں جاری تصادم کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں۔

اس سے قبل گذشتہ ماہ عراق کے جنگ زدہ علاقے سے 46 بھارتی نرسوں کو رہائی کے بعد بھارت لایا گیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایک ہزار سے زیادہ بھارتی لیبیا کے دارالحکومت طرابلس اور اہم شہر بن غازی میں ملازمت کرتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ابھی بھی درجنوں نرسیں وہاں پھنسی ہوئی ہیں اور انھیں آنے والے چند دنوں میں وہاں سے نکال لیا جائے گا۔

ان میں سے زیادہ تر نرسیں جنوبی بھارتی ریاست کیرالہ سے تعلق رکھتی ہیں۔

کیرالہ نن ریزیڈنٹ امور کے سینيئر اہلکار پی سودیپ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مجموعی طور پر ابھی تک 44 نرسیں واپس آئی ہیں۔‘

وہ ان 120 بھارتی شہریوں کے گروپ کا حصہ ہیں جو لیبیا سے وطن واپس لوٹنا چاہتے ہیں۔ اس گروپ میں نرسوں کے علاوہ دوسرے شعبے میں ملازمت کرنے والی بھارتی خواتین بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ ماہ عراق کے جنگ زدہ علاقے سے 46 بھارتی نرسوں کو رہائی کے بعد بھارت لایا گیا تھا

دو دن قبل کل 58 بھارتی نرسیں طرابلس سے تیونس پہنچی تھیں جن میں سے 44 نرسوں کا پہلا دستہ وطن پہنچ گیا ہے۔

سودیپ نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ ’مزید تین نرسیں آج ہی دوسری پرواز سے آنے والی ہیں جبکہ باقی نرسیں بدھ کو آ سکتی ہیں۔‘

کیرالہ کے وزیر اعلیٰ اومن چینڈي نے چند روز قبل یکم اگست کو وزیر خارجہ سشما سوراج کو خط لکھ کر لیبیا میں پھنسی ہوئی بھارتی نرسوں کی وطن واپسی کا انتظام کرنے کی درخواست کی تھی۔

دریں اثنا لیبیا کے دارالحکومت تریپولی میں پیر کو ایک بھارتی سلیمان ڈینیل کی گولی لگنے سے موت ہو گئی تھی۔

دریں اثنا مختلف ممالک نے اپنے شہریوں کو لیبیا سے نکالنا شروع کر دیا ہے جبکہ بعض ممالک نے اپنے شہریوں کے وہاں جانے سے پرہیز کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

برطانیہ نے اپنے شہریوں کو رائل نیوی کے بحری جہاز سے مالٹا منتقل کیا ہے جبکہ امریکہ نے گذشتہ ہفتے اپنے سفارتی عملے کو ’حقیقی خطرات‘ کا حوالہ دیتے ہوئے وہاں سے نکال لیا تھا۔

اقوام متحدہ نے بھی لیبیا سے اپنا سٹاف نکال لیا ہے۔

کرنل معمر قذافی کی سنہ 2011 میں اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے لیبیا اندرونی خلفشار کا شکار ہے۔

اسی بارے میں