فیشن شوٹ میں گینگ ریپ کی عکاسی پر برہمی

تصویر کے کاپی رائٹ RAJ SHETYE
Image caption راج شیٹی کا کہنا ہے کہ اس فوٹو شوٹ میں ملک میں صرف خواتین کی حالتِ زار کی عکاسی کی گئی ہے اور اس کا اس گینگ ریپ سے کوئی تعلق نہیں

بھارت میں ایک فیشن فوٹو شوٹ پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے جس میں بس پر سوار ایک لڑکی کے ساتھ کچھ مرد چھیڑ چھاڑ کرتے دکھائے گئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر کہا جا رہا ہے کہ اس میں سنہ 2012 میں دہلی کی ایک بس میں ایک لڑکی کے ساتھ گینگ ریپ کو فیشن کے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

فوٹوگرافر شیٹی کی کھینچی گئی تصاویر میں ایک خاتون ماڈل کو بس پر مردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ بعض لوگوں کے بقول اس سے 2012 میں دہلی کی ایک بس میں ہونے والے گینگ ریپ اور قتل کے واقعے کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔

اس واقعے نے پورے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

سوشل میڈیا یا سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں کے صارفین کا کہنا ہے کہ انھیں یہ تصاویر ’نفرت انگیز‘ اور ’خوفناک‘ لگیں۔

ادھر راج شیٹی کا کہنا ہے کہ اس فوٹو شوٹ میں ’ہمارے ملک میں صرف خواتین کی حالتِ زار کی عکاسی کی گئی ہے‘ اور اس کا اس گینگ ریپ کے واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔

فیس بک اور ٹوئٹر پر شدید ردِ عمل کے بعد ان تصاویر کو ویب سائٹ سے اتار دیا گیا۔

سنہ 2012 میں 23 سالہ فزیوتھراپی کی طالبہ کے ساتھ بس میں گینگ ریپ کے باعث متعدد دنوں تک بھارت بھر میں احتجاج رہا جس کےبعد حکام ریپ کے خلاف سخت قوانین متعارف کرانے پر مجبور ہو گئے تھے۔ مقامی میڈیا اس طالبہ کو نر بھیہ یا بے خوف کا خطاب دیا تھا۔

اس کیس میں چار افراد کو موت کی سزا ہوئی اور پانچواں، جو جرم کے وقت کم عمر تھا، تین سال کی قید کاٹ رہا ہے۔

ممبئی کے فوٹو گرافر شیٹی نے اپنا یہ ’غلط موڑ‘ نامی فوٹو فیچرگذشتہ ہفتے شائع کیا تھا جس پر بڑے پیمانے پر تنقید ہوئی ہے۔

بالی وڈ کے میوزک ڈائریکٹر وشال دادلانی نے ٹوئیٹ کیا کہ ’کیا میں نے ابھی ایک ایسا فوٹو شوٹ دیکھا ہے جس میں نربھیہ کے گینگ ریپ کی عکاسی کی گئی ہے؟ یہ قابلِ نفرت ہے اور جو کوئی بھی اس کام میں ملوث ہے انھیں شرم سے ڈوب مرنا چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ RAJ SHETY
Image caption ریپ فیشن شوٹ کے لیے تحریک کا سبب نہیں بن سکتا: اداکارہ امریتا پوری

انھوں نے مزید لکھا کہ ’آپ جو کوئی بھی ہیں میں امید کرتا ہوں کہ آپ کو اس کام کے لیے جیل بھیجنا چاہیے۔‘

اداکارہ امریتا پوری نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’ریپ فیشن شوٹ کے لیے کسی تحریک کا سبب نہیں بن سکتا۔ مجھے نہیں معلوم کہ فوٹوگرافر نربھیہ کے ریپ سے متاثر ہو کر فوٹو شوٹ کرتے ہوئے کیا سوچ رہا تھا۔‘

ایک لڑکی مائرا نے اسے ’ناقابلِ نفرت‘ سے بھی زیادہ خراب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’غلط موڑ کے ذریعے جنسی حملے کو چھوٹا کر کے دکھایا گیا ہے۔‘

راج شیٹی نے بی بی سی کے رابطوں کا تو فوری کوئی جواب نہیں دیا لیکن بز فیڈ ڈاٹ کام پر منگل کو شائع کردہ ایک رپورٹ انھوں نے اس بات کی تردید کی کہ انھوں نے گینگ ریپ کے واقعے کی فوٹو شوٹ میں دوبارہ عکاسی کرنے کی کوشش کی ہے۔

شیٹی نے کہا کہ وہ اس گینگ ریپ کو گلیمر کے انداز میں پیش کرنے کی کوشش نہیں کر رہے تھے۔ انھوں نےکہا کہ ’اس شوٹ سے صرف اس واقعے پر روشنی ڈالی گئی جو کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے، چاہے وہ امیر ہو یا غریب۔‘

اسی بارے میں