’افغانستان اب پاکستان والی پالیسی اپنائے ہوئے ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حکومتِ پاکستان کے اب تک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سرحد پار حملوں میں 150 سے زیادہ پاکستانی سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں سرحد پار افغانستان کے علاقوں سے حالیہ حملوں میں اضافے سے بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ اب دونوں پڑوسی ممالک ایک دوسرے کو دبانے کے لیے طالبان تنظیموں کو استعمال کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔

پاکستان پر ابتدا سے ہی یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ افغان طالبان بشمول حقانی نیٹ ورک کی مدد اور حمایت کر کے انھیں کابل حکومت کو اپنے زیرِ اثر رکھنے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔ لیکن اب لگتا ہے کہ افغان حکومت نے بھی اسلام آباد کو ’انھی کی زبان میں سبق سکھانے‘ کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔

پاکستانی فوج کے مطابق پاک افغان سرحد ’ڈیورنڈ لائن‘ کے اس پار افغان علاقوں سے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران متعدد بار پاکستانی علاقوں پر شدت پسندوں کی طرف سے حملے کیے گئے ہیں جن میں کئی سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

چار دن پہلے باجوڑ ایجنسی کے سرحدی علاقے غاخی پاس میں افغان علاقے سے حملہ کیا گیا جس میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوا۔ اس سے ایک دن قبل خیبر پختونخوا کے ضلع اپر دیر میں بھی سکیورٹی حکام کے مطابق سرحد پار سے ہونے والے شدت پسندوں کے ایک حملے کو ناکام بنایا گیا جس میں پانچ عسکریت پسند مارے گئے۔

یہ حملے ویسے تو گذشتہ تقریباً چار سال سے جاری ہیں لیکن پچھلے دو سالوں سے ان میں تیزی آئی ہے جس میں اب تک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ڈیڑھ سو سے زیادہ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

پاکستانی فوج اور حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً ان واقعات پر سخت الفاظ میں ردِعمل کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

حالیہ واقعات پر حکومت پاکستان نے اسلام آباد میں تعینات افغان ناظم الامور کو دو مرتبہ دفتر خارجہ طلب کر کے ان سے سخت احتجاج کیا اور ان حملوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔

پاکستان کی طرف سے ان دراندازیوں کا الزام تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مولانا فضل اللہ اور مہمند ایجنسی کے طالبان کمانڈر عمر خالد کے گروپوں پر لگایا جاتا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ افغانستان کے سرحدی علاقوں کنڑ اور نورستان کے صوبوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

اسلام آباد کی جانب سے یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ کابل حکومت نے پاکستان مخالف تنطیموں کو اپنی سرزمین پر پناہ دے رکھی ہے۔

تاہم دوسری طرف افغان حکومت کی طرف سے بھی پاکستانی فوج پر افغان علاقوں پر گولہ باری کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان پر نظر رکھنے والے بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ شاید افغان حکومت نے مجبوراً اب اس پالیسی کا سہارا لینا شروع کیا ہے جس کا وہ بیشتر اوقات پاکستان سے شکایت کرتے رہے ہیں۔

شعبہ بین الاقوامی تعلقات عامہ پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر حسین شہید سہروردی کا کہنا ہے کہ یہ اب کوئی خفیہ بات نہیں رہی کہ گذشتہ کئی سالوں سے پاکستان جو کچھ کرتا رہا، اب افغان حکومت بھی اسی حکمت عملی کو اپنائے ہوئے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حالیہ واقعات پر حکومت پاکستان نے اسلام آباد میں تعینات افغان ناظم الاامور کو دو مرتبہ دفتر خارجہ طلب کر کے ان سے سخت احتجاج کیا

’یہ ناممکن ہے کہ کسی کی سرزمین پر کوئی پناہ گزین ہو اور انھیں اس حکومت کی حمایت حاصل نہ ہو بلکہ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ پاکستان نے افغان حکام کو ان علاقوں کی نشاندہی بھی کرائی ہے جہاں پاکستان مخالف تنظمیں پناہ لیے ہوئے ہیں۔‘

ڈاکٹر شہید کا کہنا تھا کہ وہ زمانہ گیا جب خارجہ پالیسی صرف دو اقوام تک محدود ہوا کرتی تھی اب تو ’ نان سٹیٹ ایکٹرز‘ یعنی غیر ریاستی عناصر بھی باقاعدہ طور پر ان حکومتی پالیسیوں کا حصہ بن چکے ہیں۔

تاہم سینیئر افغان صحافی سمیع یوسفزئی کہتے ہیں کہ پاکستانی طالبان افغان سرزمین پر موجود ضرور ہیں لیکن شاید وہ افغان حکومت کی مرضی کے مطابق وہاں نہیں رہ رہے بلکہ لگتا ہے کہ کابل بھی ان کے خلاف کارروائی میں بے بس نظر آتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کے مقابلے میں افغان انتظامیہ انتہائی کمزور ہے۔ وہ کابل اور اطراف کے علاقوں کو محفوظ نہیں بنا سکتی تو ایسے میں پہاڑی علاقوں میں رپوش تربیت یافتہ عسکریت پسندوں کے خلاف کیا کارروائی کرسکی گی۔‘

انھوں نے کہا کہ بنیادی طور پر پاک افغان سرحد کی نگرانی کی ذمہ داری افغان حکومت کی نہیں بلکہ یہ کام تو نیٹو فورسز کا ہے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال میں جب صدارتی انتخاب کا مسئلہ حل نہیں ہو پا رہا، ایسے میں ڈیورنڈ لائن پر کشیدگی افغان صدر حامد کرزئی کے لیے فائدہ مند ضرور ثابت ہوسکتی ہے۔

ان کے مطابق اگر اسی کشیدگی کی آڑ میں افغانستان میں ایمرجنسی کا نفاذ ہوتا ہے تو افغان آئین کے مطابق حامد کرزئی اپنے اقتدار کو دو سال تک مزید طول دے سکتے ہیں۔

سمیع یوسفزئی نے مزید کہا کہ تاہم ایسے اقدامات سے افغانستان کے وجود کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

اسی بارے میں