کیا مذاہب نفرت کو ہوا دے رہے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ڈھائی مہینے کے مختصر عرصے میں 600 سے زائد چھوٹے بڑے مذہبی نوعیت کے ٹکراؤ ایک سنگین صورت حال کی جانب اشارہ کر رہے ہیں

بھارت کی ریاست اتر پردیش کا مغربی خطہ ان دنوں مذہبی کشیدگی کا آتش فشاں بنا ہوا ہے۔

پچھلے دنوں میرٹھ کی ایک نوجوان ہندو خاتون نے دو مدارس کے مولویوں پر اجتماعی آبروریزی اور جبری مذہب تبدیل کرانے کا الزام عائد کیا جس کے بعد کئی گرفتاریاں ہوئی ہیں اور مدرسوں کے مولوی فرار ہیں۔

پولیس اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے اور اس کے کئی نئے زاویے سامنے آ رہے ہیں لیکن اس واقعے نے مغربی اتر پردیش کی پہلے سے ہی کشیدہ فضا کو اور بھی کشیدہ بنا دیا ہے۔

بھارت کے ایک سرکردہ اخبار کے جائزے کے مطابق رواں برس مئی میں پارلمیانی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد گذشتہ دس ہفتوں میں اتر پردیش میں 600 سے زائد ہندو مسلم ٹکراؤ کے واقعات ہو چکے ہیں۔ ان میں سے 70 فی صد واقعات ان 12 اسمبلی حلقوں یا ان کے اطراف میں ہوئے جہاں نومبر میں خالی نشستوں کے لیے ضمنی انتخابات ہونے والے ہیں۔

ان واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ نصف واقعات مساجد کی تعمیر، توسیع یا قبرستانوں کے اطراف چار دیواری کی تعمیر یا خاردار تاروں کے لگانے پر اختلاف سے شروع ہوئے اور تقریباً 100 واقعات مندروں اور مساجد پر لاؤڈ سپیکروں کے سبب ہوئے۔

ڈھائی مہینے کے مختصر عرصے میں 600 سے زائد چھوٹے بڑے مذہبی نوعیت کے ٹکراؤ ایک سنگین صورت حال کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔

اخبار نے اپنے جائزے میں لکھا ہے کہ یہ واضح طور پر اتر پردیش میں ضمنی انتخابات سے قبل رائے دہندگان کو مذہبی خطوط پر تقسیم کرنے کی کوشش ہے جس میں بی جے پی ہی نہیں حکمراں سماجوادی پارٹی بھی پیش پیش ہے لیکن یہ واقعات انتخابات کی سیاسی بازی گری سے بھی آگے کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔

گذشتہ دو دہائی کی سیاست پر اگر نظر ڈالیں تو مسلمانوں کی ہمدرد سمجھی جانے والی جماعتوں کانگریس، سماجوادی پارٹی، راشٹریہ جنتا دل، بہوجن سماج پارٹی اور ترنمول کانگریس جیسی جماعتوں نے مسلمانوں کی ترقی کے نام پر ایسی سیاست کی جس سے عام ہندوؤں میں مسلمانون کے خلاف نفرت کے جذبات کو ہوا ملی۔ یہی نہیں ملک کی تقریباً سبھی سیاسی جماعتوں نے ایسی مسلم قیادت کو فروغ دیا جو نہ صرف فرسودہ اور قدامت پسند نظریات کے حامل تھیں بلکہ ان میں اکثر فرقہ پرست اور غیر جمہوریت پسند بھی تھے۔

بھارت میں مختلف مذاہب باہمی احترام کے ساتھ صدیوں سے ساتھ رہتے چلے آئے ہیں لیکن سیاست میں مذہب کی دخل اندازی کے بعد مذاہب کے درمیان کشیدگی کو ہوا مل رہی ہے۔ مذاہب کے درمیان مذا کرات اور کوئی رابطہ نہ ہونے کے سبب باہمی خلیج اور نفرت کا سلسلہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔

مذہب اور سیاست کی آمیزش نفرت پر مبنی سیاست کو جنم دے رہی ہے اور اب ایک ایسی سیاست نمو پا رہی ہے جس میں حریف سیاسی حریف نہیں بلکہ مذہبی دشمن کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسی سیاست ہے جس میں قوم پرستی مذہب سے منسوب کی جا رہی ہے۔

اتر پردیش کی سیاست فی الوقت اسی نفرت کے تجربے سے گزر رہی ہے۔ ریاست میں ملائم سنگھ یادو کی سماجوادی پارٹی اقتدار میں ہے۔

موجودہ ریاستی حکومت کی کارکردگی ایسی رہی ہے کہ کہ اگر اس مرحلے پر انتخابات کر ا دیے جائیں تو شاید اس کا حشر کانگریس سے بھی برا ہو۔ سیکنڈ گریڈ کے جاگیردارانہ طرز کی یہ پارٹی سیاست کے بدلتے ہوئے سیاق و سباق میں اپنی معنویت کھوتی جا رہی ہے۔

مہاراشتر اور گجرات کی طرح اتر پردیش بھی بھارت کی سیاست میں مذہب کی آمیزش کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد وہ تمام مذہبی اور سیاسی تنظیمیں متحرک ہو گئی ہیں جو سیاست میں اپنی براہ راست حصے داری کے لیے ایک طریل عرصے سے کوشاں رہی ہیں۔

مذہب اور سیاست کی اس آنکھ مچولی میں نفرت کی سیاست کامیاب ہوتی ہے یا وزیرِاعظم نریندر مودی کا ترقی کا ایجنڈہ۔ اس کا انحصار پوری طرح وزیر اعظم مودی پر ہو گا کہ وہ کون سا راستہ اختیارکرتے ہیں۔

اسی بارے میں