کیا بھارت کے بڑے ڈیم محفوظ ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت میں آدھی سے زیادہ آبادی کا تعلق شعبہ زراعت سے ہے جہاں زیادہ تر ڈیم نو کروڑ ایکڑ کاشت کی زمین کی آب پاشی کے لیے پانی مہیا کرتے ہیں

بھارتی حکومت کی طرف سے کیے گیے ایک حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک میں 600 سے زائد بڑے ڈیم ایسے مقامات پر واقع ہیں جہاں زلزلہ آنے کے امکانات زیادہ ہیں۔

بھارت میں 30 سے زائد طاس ہیں جن کا رقبہ کئی ہزار مربع میل سے زیادہ ہے۔ ملک کی 29 ریاستوں میں سے 22 میں تقریباً پانچ ہزار بڑے ڈیم بنائے گئے ہیں۔ ان میں سے کم از کم تین ہزار ڈیم گذشتہ 50 سالوں میں بنائے گئے۔

بھارت میں آدھی سے زیادہ آبادی کا تعلق شعبہ زراعت سے ہے جہاں زیادہ تر ڈیم نو کروڑ ایکڑ کاشت کی زمین کے آب پاشی کے لیے پانی مہیا کرتے ہیں۔ ان میں صرف تین فیصد ڈیم پانی سے بجلی پیدا کرتے ہیں۔

جاپان میں فوکوشیما نیوکلیئر پاور پلانٹ میں سنہ 2011 میں زلزلے اور سونامی سے آنے والی تباہی کے بعد بھارت میں ڈیموں کی حفاظت کے بارے میں سوال اٹھائے جانے لگے ہیں۔ فوکوشیما میں زلزلے سے تباہی کی وجہ سے علاقے میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

بھارتی حکومتوں کا موقف رہا ہے کہ زلزلے کے زیادہ امکانات والے علاقوں میں جو ڈیم واقع ہیں وہ کسی بھی زیادہ شدت کے زلزلے یا سونامی کو برداشت کر سکتے ہیں اور ان کی حفاظت کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جاتا ہے۔

بھارت کے ارضیاتی سائنس کے وزیر جتیندر سنگھ نے حال میں پارلیمان کو یقین دلایا کہ ’فوکوشیما کے واقعے کے بعد نہ صرف ڈیموں بلکہ تمام نیوکلیئر پاور پلانٹوں کابھی معائنہ کیا گیا ہے اور وہ بالکل محفوظ ہیں۔‘

لیکن بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ کئی بھارتی ڈیم بہت پرانے ہو گئے ہیں اور غیر محفوظ ہوتے جا رہے ہیں۔

جنوبی ایشیا میں ڈیموں، دریاؤں اور لوگوں کے نیٹ ورک کے رابطہ کار ہیمانشو ٹھاکر کہتے ہیں کہ ’بھارت میں کم از کم ایک سو ڈیم ایک صدی پہلے بنائے گئے۔ ان کی تباہی کے امکانات زیادہ ہیں۔‘

بھارت کے مرکزی پانی کے کمیشن یا سینٹرل واٹر کمیشن کے سربراہ آشون پانڈیا سمجھتی ہیں کہ بھارت ترقی پذیر ملک ہے جہاں آبادی بڑھ رہی ہے اور پانی اور بجلی کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ان ڈیموں کی وجہ سے کروڑوں لوگوں کی زندگی کا انحصار زراعت پر ہے۔ یقیناً ان ڈیموں کی حفاظت کے حوالے سے وقتاً فوقتاً جائزہ لینا چاہیے۔ اگر آپ پرانے ڈیم گرا دیں گے تو ان لوگوں کا کیا بنے گا جن کی زندگی کا دارو مدار ان پر ہے؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption راماس وامے اییار کہتے ہیں کہ بھارت میں ڈیم بنانے سے پہلے کافی تحقیق نہیں کی جاتی

ڈیموں کی نگرانی، معائنے، چلانے اور اس کی بحالی کے حوالے سے مجوزہ قانون ابھی پارلیمان سے پاس ہونا ہے۔

راماس وامے اییار کہتے ہیں کہ بھارت میں ڈیم بنانے سے پہلے کافی تحقیق نہیں کی جاتی۔

’کئی ڈیم ان علاقوں میں بنائے گئے ہیں جہاں سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے امکانات زیادہ ہیں اور وہ ارضیاتی طور پر کمزور علاقے ہیں، بالخصوص ہمالیہ اور مغربی بھارت کے علاقے۔ چونکہ زیادہ تر ڈیم قدرتی نہیں ہیں اور خود بنائے گئے ہیں اور وہ زیادہ پانی جمع ہونے کی وجہ سے زیرِ زمین حرکت کو متاثر کرتے ہیں۔‘

انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں کم و تیز شدت کے زلزلے جھٹکے آتے ہیں۔‘

اسی بارے میں