غدر گزرنے کے سو برس بعد

تصویر کے کاپی رائٹ DALJIT AMI
Image caption پکڑے گئے 205 باغیوں میں سے 47 کو آؤٹرام جیل کے باہر 15 ہزار افراد کی موجودگی میں گولی مار دی گئی تھی

آج کل بڑے زور شور سے پہلی جنگ عظیم کی صد سالہ تقریبات منائی جا رہی ہیں لیکن اسی پہلی جنگ عظیم کےدوران ہونے والی ایک بڑی اہم فوجی بغاوت کے نہ تو تذکرے ہیں اور نہ ہی کوئی بحث ہو رہی ہے۔

سنگاپور میں برطانوی فوج میں شامل ہندوستانی اہلکاروں نے غیر ملکی حکومت کے خلاف بغاوت کی تھی جسے تقریباً بھلا ہی دیا گیا ہے۔

سنگاپور میں 15 فروری سنہ 1915 کو پانچویں لائٹ انفنٹری کے تقریباً آٹھ سو فوجیوں نے بغاوت کی تھی اور باغی فوجی برطانوی افسروں کو مارتے ہوئے سنگاپور میں پھیل گئے تھے۔

غدر پارٹی کے بغاوت کرنے والے فوجیوں کا تعلق آج کے بھارت میں ہریانہ ریاست کے دیہات سے تھا۔ لیکن اب اس بغاوت میں شامل ہونے والوں کو یاد بھی نہیں کیا جاتا۔

سنگاپور کی اس بغاوت میں 34 برطانوی فوجی اور 13 شہری ہلاک ہوئے تھے۔ لیکن برطانوی فوجیوں نے فرانسیسی اور روسی فوجوں کی مدد سے بالآخر اس بغاوت کو کچل دیا تھا۔

پکڑے جانے والے 205 باغیوں میں سے 47 کو آؤٹرام جیل کے باہر 15 ہزار افراد کی موجودگی میں گولی مار دی گئی تھی۔

مسلح جدوجہد

تصویر کے کاپی رائٹ DALJIT AMI
Image caption ۔۔۔غدر پارٹی اس وقت مکمل آزادی کا مطالبہ کر رہی تھی

فائرنگ سكواڈ کی بندوقوں کے سامنے کھڑے ان فوجیوں کی تصویریں اس وقت کے حالات کو بیان کرتی ہیں۔

پانچویں لائٹ انفنٹری سنہ 1913 میں اکتوبر کے مہینے میں مدراس سے سنگا پور پہنچی تھی۔ ان فوجیوں نے غدر پارٹی کے بینر تلے بغاوت کا پرچم بلند کیا تھا۔

غدر پارٹی اس وقت غیر ملکی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کے لیے زبردست پروپگینڈا کر رہی تھی اور مکمل آزادی کا مطالبہ کر رہی تھی۔

آزادی کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ DALJIT AMI
Image caption ۔۔۔فوجی پنجاب کے رانگڑ مسلمان تھے

امریکہ میں منتقل پنجابیوں کی بنائی ہوئی غدر پارٹی کے سربراہ بابا سوہن سنگھ بھكنا تھے اور مکمل آزادی کا مطالبہ کرنے والی یہ پہلی پارٹی تھی۔

کئی وجوہات کی بنا پر غدر پارٹی کا بھارت میں فوجی بغاوت کا پروگرام ناکام ہوگیا تھا لیکن سنگاپور میں مضبوط بغاوت ہوئی۔

یہ سارے فوجی پنجاب کے رانگڑ مسلمان تھے۔ ان مسلم فوجیوں کے گاؤں گڑگاؤں جند، بھواني، حصار، روہتک اور پٹیالہ ریاست میں تھے۔

بڑا فساد

تصویر کے کاپی رائٹ DALJIT AMI
Image caption ۔۔۔اب یہ تمام گاؤں ریاست ہریانہ میں شامل ہیں

بد قسمتی سے انھی علاقوں میں تقسیم کے وقت سب سے بڑا فساد ہوا تھا۔ گاؤں کے گاؤں قتل کر دیے گئے تھے یا پھر وہ لوگ کسی طرح پاکستان چلے گئے۔

بینسي، جمال پور، بليالي، چانگ اور گذراني جیسے گاؤں پاکستان سے آئے ہوئے لوگوں نے ازسر نو آباد کیے۔ اب یہ تمام گاؤں ریاست ہریانہ میں ہیں۔

اب بغاوت کرنے والوں کی نئی نسلیں ان گاؤں میں نہیں رہتیں اور جو رہتے ہیں ان کو سنگاپور کی اس تاریخی بغاوت کا علم ہی نہیں ہے۔

يادگاری تختياں

تصویر کے کاپی رائٹ DALJIT AMI
Image caption ۔۔۔ہم آزادی کا لطف لے رہے ہیں لیکن آزادی کے لیے جان دینے والوں کو یاد نہیں کرتے: ملوندر سنگھ وڑائچ

یہ سارے گاؤں فوج میں بھرتی کے لیے جانے جاتے تھے۔ ہر گاؤں سے سینکڑوں لوگوں نے پہلی جنگ عظیم میں حصہ لیا۔

ہر گاؤں سے درجنوں فوجی مارے گئے جن کی ياد میں ان کے نام کی تختیاں برطانوی فوج نے ان کے گاؤں میں لگوا دی تھیں۔ جمال پور میں تو اس کے تعلق سے ایک يادگاري ستون بھی بنا ہوا ہے۔

سویڈن کی سٹاک ہوم یونیورسٹی میں سیاسی امور کے پروفیسر اشتیاق احمد کہتے ہیں کہ غیر ملکی حکومت کی مخالفت کرنے والے کئی اداروں کے ساتھ انصاف نہیں ہوا جن میں سے سنگاپور کی بغاوت بھی شامل ہے۔

غدر پارٹی کی تاریخ لکھنے والے مورخ ملوندر سنگھ وڑائچ کا کہنا ہے کہ ’غیر ملکی حکومت کے خلاف لڑنے والوں کو بھی اپنے اور غیر میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہم آزادی کا لطف لے رہے ہیں لیکن آزادی کے لیے جان دینے والوں کو یاد نہیں کرتے۔‘

بھارتی ریاست پنجاب کے جالندھر میں غدر پارٹی کی یاد میں ایک ایک یادگاری ہال بنایا گیا ہے۔ یہاں لگنے والے سالانہ میلے میں سنگاپور کی بغاوت میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔

اس میلے کے منتظمین میں شامل امولك سنگھ کہتے ہیں کہ ’لوگ ایسے لوگوں کی تاریخ یاد رکھتے ہیں اور حکومت حکومتوں کی تاریخ یاد رکھتی ہے۔‘

اسی بارے میں