جنوبی ایشیائی ممالک مل جائیں اور غریبی مٹائیں: نریندر مودی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جنوبی ایشیا کے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ خطے سے غریبی کے خاتمے کے لیے مل جل کر کام کریں۔

انھوں نے کہا کہ اگر بغیر ہتھیار کے برطانیہ جیسی عظیم سلطنت سے آزادی حاصل کی جا سکتی ہے تو متحد ہو کر خطے سے غریبی کو بھی مٹایا جا سکتا ہے۔

یوم آزادی کے موقعے پر دہلی کے لال قلعے سے اپنی پہلی تقریر میں مودی نے کہا کہ وقت آ گیا ہے جب پڑوسی ممالک اپنے باہمی اختلافات پیچھے چھوڑ کر اپنی توجہ غریبی کے خاتمے پر مرکوز کریں۔

’ماضی کے ٹکراؤ اور کشیدگی سے نکلنے کی ضرورت ہے۔ اور حلف برداری کی تقریب میں سبھی سارک ممالک کے سربران کی شرکت سے بہت اچھی شروعات ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت دنیا میں امن اور شانتی کے لیے کام کرے گا۔‘

وزیر اعظم نے بھارت کے غریبوں ملک کے تمام غریب خاندانوں کے لیے ایک لاکھ روپے کے بیمے کی ایک سکیم کا اعلان کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہر غریب خاندان کے لیے بینک میں کھاتہ کھولا جائے گا اور بیمے کی یہ رقم کسی مشکل گھڑی میں استعمال کی جا سکے گی۔

انھوں نے ایک ’ڈیجیٹل بھارت‘ کا تصور پیش کیا اور کہا کہ ملک کے ہر گاؤں کو براڈ بینڈ سے جوڑا جائے گا اور آنے والے دنوں میں ہر کوئی موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے حکومتی اداروں تک رسائی حاصل کر سکے گا۔

بھارتی وزیر اعظم لال قلعے کی فصیل سے یوم آزادی کی تقریر میں اعلان کیا کہ ملک کے ترقیاتی پروگرام وضع کرنے والا سب سے اہم ادارہ ’پلاننگ کمیشن‘ اپنی معنویت کھو چکا ہے اور اس سے ختم کر دیا جائے گا اور اس کی جگہ بدلے ہوئے حالات کے مطابق ایک نیا ادارہ تشکیل دیا جائے گا۔

مودی کی یہ تقریر تقریباً ایک گھنٹے کی تھی اور یہ ایک غیر تحریر شدہ بے ساختہ تقریر تھی۔

انھوں نے بھارت کو مینو فیکچرنگ ہب بنانے کا اعلان کیا اور پوری دنیا کی کمپنیوں کو دعوت دی کہ وہ اپنی مصنوعات بھارت میں تیار کریں اور اسے کہیں بھی فروخت کریں۔ انھوں نے کہا کہ بھارت میں ملازمتوں کے لیے مینوفیکچرنگ میں مہارت حاصل کرنی ہو گی۔

مودی نے اپنی تقریر میں ملک میں صفائی کی مہم پر خاص زور دیا ۔ انھوں نے کہا کہ گندگی ختم کرنے کے بارے میں اتنی بیداری پیدا کی جائے گی کہ آئندہ پانچ برس میں ملک سے گندگی کا خاتمہ کیا جا سکے گا۔

انھوں نے کہا کہ آئندہ ایک برس کےاندر ملک کے ہرچھوٹے بڑے سکول میں ٹوائلٹس تعمیر کیے جائیں گے اور لڑکیوں کے لیے علیحدہ ٹوائلٹس بنیں گے۔

انھوں نے ملک میں ریپ کے واقعات پرگہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان شرمناک واقعات سے پوری دنیا میں بھارت کی شبیہ خراب ہوئی ہے۔ انھوں کہا کہ ان واقعات پر قابو پانے کے لیے حکومت اور عوام کو مل کر کام کرنا ہو گا۔

مودی نے ذات پات اور مذہبی تشدد کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس طرح کے ٹکراؤ سے ترقی کے عمل کو نقصان پہنچے گا۔ ’بہت لڑ لیا، بہت کاٹ لیا بہت مار لیا۔ ایک بار مڑ کر اگر پیچھے دیکھیں تو اس سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا ہے۔ اس سے ہم نے صرف ملک کو مجروح کیا ہے اور دنیا میں اپنی بدنامی کی ہے ۔‘

وزیر اعظم کے طور پر یوم آزادی کے موقع پر مودی کی یہ پہلی تقریر تھی۔ ان کی تقریر میں میڈیا میں کافی دلچسپی تھی۔ ماہرین نے اپنے جائزے میں ان کی تقریر کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ اگرچہ یہ تحریر شدہ تقریر نہیں تھی لیکن یہ عوام کا دل جیتنے کے لیے ایک بہت سوچی سمجھی تقریر تھی۔

اسی بارے میں