بھارتی یوم آزادی: کشمیر میں ہڑتال، تناؤ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس موقعے پر سخت سکیورٹی کا اہتمام کیا گیا تھا

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں بھارتی یوم آزادی کے موقعے پر سکیورٹی پابندیوں، مسلح تشدد اور ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی متاثر ہوئی ہے۔

بھارت کے 68ویں یوم آزادی کے موقعے پر بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں لوگوں نے احتجاجی ہڑتال کی اور اس دوران سرینگر اور دوسرے حساس قصبوں میں سخت سیکورٹی پابندیاں نافذ رہیں۔ سرکاری تقریبات کے اختتام تک کشمیر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سہولیات کو بھی معطل رکھا گیا۔

15 اگست سے قبل جنوبی قصبہ پام پور میں بی ایس ایف اور پولیس پر ہوئے دو الگ الگ حملوں میں دو پولیس اہلکار اور ایک شہری ہلاک ہوگئے جبکہ نو سیکورٹی اہلکار زخمی ہوگئے۔

ان حملوں کے پیش نظر 15 اگست کی تقریب پر مسلح حملوں کو روکنے کے لیے اُن مقامات کی ناکہ بندی کی گئی جہاں اعلیٰ حکام یا پولیس اور فوجی افسران بھارتی ترنگا لہرانے اور پریڈ پر سلامی لینے والے تھے۔

سب سے بڑی تقریب سرینگر کے بخشی سٹیڈیم میں ہوئی جہاں وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے ترنگا لہرایا۔ اپنی طویل تقریر میں انھوں نے کہا کہ کشمیر میں مسلح تشدد کی سطح میں 80 فی صد کمی ریکارذ کی گئی ہے اور وہ دن دُور نہیں جب کشمیر میں تعینات بھارتی افواج کو حاصل قانونی اختیارات واپس لے لیے جائیں گے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ جیلوں میں صرف سو نوجوان قید ہیں اور 25 سال قبل پاکستان جانے والے ساڑھے تین سو نوجوان بیوی بچوں سمیت واپس لوٹے ہیں۔

15 اگست کو یوں تو سرکاری تعطیل ہوتی ہے، لیکن پوری وادی میں ہڑتال کی وجہ سے عام کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں۔دریں اثنا جمعرات کو پاکستان کے یوم آزادی کے موقعے پر سرینگر اور کئی دیگر مقامات پر ہندمخالف گروپوں کے کارکنوں نے پاکستان کے پرچم لہرائے جنھیں فوراً پولیس نے ہٹالیا۔

عام ہڑتال کی کال سید علی گیلانی، میرواعظ عمرفاروق ، شبیر شاہ اور یاسین ملک نے دی تھی۔ پاکستان میں مقیم کئی مسلح گروپوں کے اتحادی سربراہ سید صلاح الدین نے بھی اس روز عام ہڑتال کرنے اور یوم سیاہ منانے کی اپیل کی تھی۔

ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ : ’کشمیر پر بھارت کا ناجائز فوجی قبضہ ہے اور اس ملک کو کشمیر کی سرزمین پر اپنی آزادی کا جشن منانے کا کوئی قانونی یا اخلاقی حق نہیں ہے۔‘

علیحدگی پسند رہنما شبیر احمد شاہ نے ایک بیان میں کہا کہ کشمیریون کے لیے 15 اگست چھاپوں اور گرفتاریوں کا دن ہوتا ہے۔

اسی بارے میں