کیا مودی حکومت ڈر گئی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نریندر مودی نے اپنی حلف برداری پر پاکستانی وزیراعظم میاں نواز شریف کو مدعو کیا تھا جس سے امن کی امیدیں پیدا ہوئی تھیں

جب نریندر مودی نے اپنی حلف برداری کی تقریب میں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کو مدعو کیا تھا تو لگا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری آئے گی۔

مگر اب بھارت نے پاکستان کے ساتھ 25 اگست کو ہونے والی سیکریٹری خارجہ سطح کی بات چیت منسوخ کر دی ہے۔

اس اقدام کی وجوہات کیا ہیں؟ اس سلسلے میں سندیپ سونی نے دو سینئیر صحافیوں سے بات چیت کی جو پیشِ خدمت ہے۔

سینیئر صحافی سدھارتھ وردراجن کا خیال ہے کہ ایک کمزور اپوزیشن کی تنقید کے آگے مودی حکومت کا جھک جانا اس کی پاکستان سے تعلقات کے حوالے سے پوزیشن پر سوالیہ نشان ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے معاملے پر بھارت کی طرف سے مذاکرات کار رادھا کمار کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ پاکستان کی جانب سے اشتعال انگیز اقدامات کے جواب میں کیا گیا ہے۔

سدھارتھ وردراجن نے کہا کہ ’یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ مودی سرکار بہت کمزور ہو چکی ہے اور اپوزیشن اور میڈیا کی جانب سے کی گئی تنقید کو جھیل نہیں پائی۔‘

’دونوں ممالک کےسیکریٹریوں کی بہت ہی اہم بات چیت کو منسوخ کرنا سمجھ سے باہر ہے۔ ایسی بات چیت ماضی میں بھی ہوئی ہے اور اس سے بھارت کی یکجہتی اور خودمختاری پر کوئی آنچ نہیں آئی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مودی نواز ملاقات کو تاریخی قرار دیا گیا مگر مبصرین کا کہنا ہے کہیں یہ بہت جلد بازی تو نہیں تھی؟

نریندر مودی نے پہلے دن ہی جو اچھا قدم اٹھایا تھا، لگتا ہے ان میں اسے انجام تک پہنچانے کی قوت نہیں ہے۔

2005 میں بھی جب پرویز مشرف بھارت آئے تھے اور حریت کے رہنماؤں سے ملنا چاہتے تھے تو اس وقت کے سیکرٹری خارجہ شیام شرن نے کہا تھا کہ ’بھارت ایک جمہوری ملک ہے اور جس سے وہ ملنا چاہتے ہیں مل سکتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا ہے کہ اسے بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دینا المناک ہے۔ حکومت اور وزیر اعظم میں خود اعتمادی ہونی چاہیے۔ سفارت کاری کے لیے ثابت قدمی اور خواہشات کو عملی جامہ پہنانے کی طاقت ہونی چاہیے اور لگتا ہے اس حکومت میں وہ نہیں ہے۔

مودی نے آتے ہی نے امید دلائی تھی مگر جلدبازی میں کیے جانے والے فیصلے کی وجہ اس پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

رادھا کمار کا کہنا تھا کہ ’بات چیت کو منسوخ کرنا کوئی حیرت انگیز بات نہیں ہے کیونکہ پاکستانی ہائی کمشنر کی طرف سے حریت لیڈروں کو بلانا ایک اشتعال انگیز والا قدم ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’بغیر بھارت کے خارجہ سیکریٹری سے صلاح مشورے کے ایسا کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’پاکستانی لیڈروں کی پہلے جو حریت سے بات چیت ہوئی تھی وہ امن عمل کے تحت ہوئی تھی۔ اب کوئی امن عمل چل ہی نہیں رہا۔‘

’سال 2004 سے 2006 کے درمیان دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت سے ایک فریم ورک نکلا تھا اسے پاکستانی حکومت نے مانا نہیں۔ پھر وہ کس بات پر حریت سے مل رہے ہیں؟‘

اسی بارے میں