اروم شرمیلا رہائی کے 2 دن بعد دوبارہ گرفتار

اِروم شرمیلا تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اِروم کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھیں گی

بھارتی انسانی حقوق کی کارکن اروم شرمیلا جو بھارتی فوج کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف گزشتہ 14 سال سے بھوک ہڑتال پر ہیں کو 2 قبل عدالت کے حکم پر رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔

منی پور میں سیکورٹی فورسز کے خصوصی اختیارات سے متعلق قانون (افسپا) کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اروم شرمیلا تقریباً 14 سال سے بھوک ہڑتال کر رہی ہیں اور وہ خودکشی کے الزام میں منی پور کے ایک ہسپتال میں عدالتی حراست میں تھیں۔

جمعے کو پولیس کی خواتین اہلکاروں کے ایک گروپ نے انہیں ریاست کے دارالحکومت میں اس جگہ سے گرفتار کیا جہاں انہوں نے بھوک ہڑتال کر رکھی تھی۔

ٹی وی کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انہیں پولیس اہلکار ایک جیپ میں زبردستی ڈال کر لیجا رہے ہیں۔

اروم شرمیلا نے نومبر سنہ 2000 میں اپنی بھوک ہڑتال اس وقت شروع کی تھی جب امپھال میں آسام رائفل کے سپاہیوں کے ہاتھوں مبینہ طور پر دس افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں دو بچے بھی شامل تھے۔

اروم شرمیلا جو 2000 ہی میں گرفتار کر کے ایک ہسپتال میں عدالتی تحثیل میں رکھا گیا ہے جہاں انہیں زبردستی ایک نالی کے ذریعے خوراک دی جا رہی ہے۔

ان کی رہائی کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے کہا ’شرمیلا پر خودکشی کی کوشش کا الزام ثابت نہیں ہوتا‘

بدھ کو رہائی کے بعد شرمیلا نے کہا کہ افسپا پر ان کا نظریہ تبدیل نہیں ہوا اور جب تک ان کا مطالبہ پورا نہیں کیا جاتا وہ بھوک ہڑتال جاری ركھیں گي۔

اروم شرمیلا نے نومبر سنہ 2000 میں اپنی بھوک ہڑتال اس وقت شروع کی تھی جب امپھال میں آسام رائفل کے سپاہیوں کے ہاتھوں مبینہ طور پر دس افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں دو بچے بھی شامل تھے۔

اروم شرمیلا کے احتجاج نے انہیں عالمی شناخت دی اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انہیں ضمیر کا قیدی قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں