’لو جہاد‘ اب بی جے پی کی باقاعدہ پالیسی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’ایک مخصوص مذہب سے تعلق رکھنے والی خواتین کو ریپ کا شکار بنایا جارہا ہے‘

بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات تو ابھی تین سال دور ہیں لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی نے انتخابی جنگ کی تیاری شروع کردی ہے۔

اچھی خبر یہ ہے کہ سال 2017 کے سیاسی اجنڈے میں ’لو جہاد‘ اور ہندو لڑکیوں کا مذہب تبدیل کرنے کی کوششوں کا باضابطہ ذکر نہیں ہے۔

بری خبر یہ ہے کہ پارٹی نے ایک ’سیاسی‘ قرارداد منظور کی ہے جس میں کچھ حیرت انگیز دعوے کیے گئے ہیں۔

مثال کے طور پر پارٹی کے مطابق ’ایک مخصوص مذہب سے تعلق رکھنے والی خواتین کو ریپ کا شکار بنایا جارہا ہے اور ریپ کرنے والوں کا تعلقل ایک خاص مذہب سے ہے، یا تو یہ محض اتفاق ہے یا یہ ایک سوچی سمجھی سازش اور اس پر پارٹی کو تشویش ہے۔‘

اب اس بات کا جو مطلب آپ نکالنا چاہیں نکال لیجیے۔ لیکن پوری قرار داد میں لفظ ’لو جہاد‘ شامل نہیں کیا گیا ہے۔ ریپ کس کا ہو رہا ہے اور کون کر رہا ہے، کرم فرماتے ہوئے بی جے پی نے وضاحت نہیں کی ہے اور اس کی ایک ممکنہ وجہ انسانیت کا وہ غیرمعمولی سبق ہو سکتا ہے جو وفاقی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے مطابق پارٹی کے رہنماؤں نے ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس سے سیکھا ہے۔

یعنی ذات پات، نسل اور مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ تفریق نہیں کی جانی چاہیے!

کرالہ میں شراب پر پابندی

آپ اگر نشا کرتے ہیں تو آپ کو معلوم ہی ہوگا اور اگر نہیں کرتے تو آپ نے سنا ہوگا کہ نشے کی عادت آسانی سے نہیں جاتی۔ بھارت کی جنوبی ریاست کیرالہ کی حکومت نے شاید اسی وجہ سے اعلان کیا ہےکہ آئندہ 10 برسوں میں شراب کی فروخت پر مکمل پابندی لگا دی جائےگی۔

اگر آپ نہیں پیتے تو پینا شروع مت کیجیے، اگر پیتے ہیں تو آہستہ آہستہ کم کر دیجیے، لیکن شراب چھوڑنے کے لیے 10 سال بھی کم ثابت ہوں تو فکر کی کوئی بات نہیں، ریاست کے فائیو سٹار ہوٹلوں میں 10 سال کے بعد بھی شراب ملتی رہے گی!

ریاستی حکومت شاید سمجھتی ہے کہ غریب شوق کے لیے پیتے ہیں اور امیر مجبوری میں صرف غم بھلانے کے لیے اور اگر شراب دوا کا کام کر رہی ہو تو اس پر پابندی کیسے لگائی جا سکتی ہے!

اب استعفا نہیں دوں گا!

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اروند کیجریوال نے سیاست کا سب سے اہم سبق تو سیکھ لیا، کرسی ہاتھ آجائے تو چھوڑو مت۔

عام آدمی پارٹی کے لیڈر اروند کیجریوال جہاں کہیں بھی جاتے ہیں ان سے یہ سوال ضرور پوچھا جاتا ہے کہ ’آپ دہلی کی حکومت چھوڑ کر کیوں بھاگ گئے تھے؟‘

اور وہ وضاحت کرتےنہیں تھکتے کہ کس طرح ان کی حکومت کو وہ وعدے پورے کرنے سے روکا جارہا تھا جو انھوں نے عوام سے کیے تھے۔ آج کل ساتھ میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’میں نے سیاست میں ایک بات ضرور سیکھی ہے، چاہے کچھ بھی ہو جائے اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دینا چاہیے اور اگلی بار میں کسی بھی حالت میں استعفا نہیں دوں گا!‘

اروند کیجریوال نے سیاست کا سب سے اہم سبق تو سیکھ لیا، کرسی ہاتھ آجائے تو چھوڑو مت، سبق نمبر دو یہ ہے کہ کرسی حاصل کرنے کے لیے ذات، نسل یا مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیاز مت برتو!

لیکن ’ لو جہاد‘ کے اس مبینہ دور میں یہ پیچیدہ فارمولہ کیسے کام کرتا ہے یہ سمجھنے کے لیے انھیں بی جے پی کے رہنماؤں کی شاگردی میں کچھ وقت گزارنا ہوگا!

اسی بارے میں