36 سال کے بعد رحم سے بچے کی باقیات

تصویر کے کاپی رائٹ PA

بھارت میں ڈاکٹروں نے ایک معمر خاتون کے پیٹ سے 36 سال کے بعد ایک جنین کا ڈھانچہ نکالا ہے جو ڈاکٹروں کے مطابق اب تک دنیا کا طویل ترین حمل ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق 60 سالہ خاتون 24 سال کی عمر میں حاملہ ہوئی تھیں مگر جنین کے رحمِ مادر سے باہر پرورش پانے کی وجہ سے ان کا حمل ختم ہو گیا۔

مذکورہ خاتون کا تعلق ایک انتہائی غریب خاندان سے ہے اور وہ اس آپریشن سے شدید خوفزدہ تھیں جس کی مدد سے ان کے رحم سے جنین کو نکالا جانا تھا۔ بجائے آپریشن کروانے کے وہ مقامی کلینک سے درد کی دوائیں کھا کر گزارا کرتی رہیں۔

ان دواؤں سے درد تو کم ہوا مگر کئی سالوں کے بعد دوبارہ لوٹ آیا جس کی وجہ سے انھیں شہر کے ہسپتال سے مدد لینا پڑی۔

ناگپور این کے پی سالو انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مرتضیٰ اختر نے بتایا کہ ’وہ ہمارے پاس پیٹ میں درد کی شکایت لے کر آئیں۔ انھوں نے پوچھنے پر بتایا کہ 1978 میں وہ حاملہ ہوئی تھیں اور وہ مکمل حمل تھا۔‘

ڈاکٹروں کو خدشہ ہوا کہ خاتون کو کہیں کینسر نہ ہو مگر دوسرے ٹیسٹ کے نتیجے میں پتہ چلا کہ ان کے جسم میں ایک سخت مواد موجود تھا۔ مزید ٹیسٹوں سے ثابت ہوا کہ یہ کچھ اور ہے۔ ڈاکٹر اختر نے بتایا کہ ’ہمارا پہلا ردِ عمل تھا کہ ہمیں نہ جانے کس چیز کا سامناہے۔‘ ’ایک 60 سالہ خاتون جن کے پیٹ میں ایک جنین ہے جو 36 سال سے وہاں پڑا ہے۔ یہ طبی دنیا کا حیرت انگیز واقعہ ہے۔ یہ ایسی چیز ہے جس کے بارے میں ہم نے کبھی نہیں سنا تھا۔‘

اس واقعے کے بعد ڈاکٹروں نے طبی تاریخ کا جائزہ لیا تو انھیں معلوم ہوا کہ اس سے قبل بیلجیئم میں ایک خاتون کے پیٹ میں ایک جنین کی باقیات 18 سال تک پڑی رہی تھیں۔

ناگپور میں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے کامیابی سے ان خاتون کا آپریشن کیا اور یہ مواد نکال دیا جو خاتون کی پیشاب کی نالی، انتڑیوں اور مثانے کے درمیان موجود تھا۔

اس آپریشن میں بچے کی پسلیاں، ٹانگیں، بازو، کھوپڑی، ریڑھ کی ہڈی اور دوسری ہڈیاں نظر آئیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق مریضہ پہلے تو بہت حیران ہوئیں تاہم اب وہ بہتر ہیں اور صحت یاب ہو رہی ہیں۔

اسی بارے میں