کشمیر: مسلسل بارشیں، چار فوجیوں سمیت 22 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اس خطے کو گذشتہ 22 برسوں کے دوران بد ترین سیلاب کا سامنا ہے اور منگل سے اب تک کم سے کم نو افراد ہلاک ہو چکے ہیں

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہو رہی مسلسل بارشوں کے باعث سرینگر اور متعدد دیہات میں ظغیانی اور مٹی کے تودے کھسکنے سے چار فوجیوں سمیت 22 افراد ہلاک اور درجنوں لاپتہ ہو گئے ہیں۔

ریاست کے ڈویژنل کمشنروں شانت منو اور روہت کنسل نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ جنوبی ضلع راجوری میں بارات لے جا رہی ایک مسافر بس تیز رفتار سیلابی ریلے میں بہہ گئی جس میں 60 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔

حکام نے بتایا کہ چار فوجی اہلکار کپوارہ میں اس وقت مارے گئے جب بارش کی وجہ سے مٹی کا تودا ان کی گاڑی پر آ گرا۔

جموں کے ریاسی اور پونچھ اضلاع میں خاتون اور بچے سمیت 12 افراد ہلاک ہوگئے۔

جنوبی کشمیر کے کوکرناگ میں دو، شمالی ضلع بارہمولہ میں دو اور بڈگام میں میں دو افراد ہلاک ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے قریب جنوبی کشمیر کے ضلع راجوری میں شادی کی بارات لے جارہی مسافر بس سیلابی رو میں بہہ گئی جس میں سوار تمام افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔

ضلع کے اعلیٰ پولیس افسر اویس احمد نے بتایا کہ یہ بس نوشہرہ سیکٹر کے رائے پورہ علاقے سے لام گاوں کی جانب جا رہی تھی کہ راستے میں ایک پل پار کرتے ہوئے سیلابی ریلا مسافر بس کو بہا لیا۔

انھوں نے بتایا کہ ابھی تک چار افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے تاہم 60 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔

کشمیر اور جموں خطوں سے تین دریا، جہلم، سندھ اور چناب بہتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ تینوں دریاؤں کا پانی خطرے کے نشان سے اوپر تک پہنچ گیا ہے۔

حکومت نے دریائے جہلم اور سندھ کے کناروں پر یا ان کے نزدیک آباد بستیوں کومکان خالی کرنے کے لیے کہا ہے۔

سرینگر میں اس بحران سے متعلق ایک کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔

سرکاری ترجمان کے مطابق وزیرِ اعلیٰ عمرعبداللہ اس کنٹرول روم کی نگرانی کر رہے ہیں۔

بدھ کی رات کو سرینگر کے کئی ہسپتالوں میں داخل مریضوں کو نکالا گیا کیونکہ یہاں کے اکثر ہسپتال دریائے جہلم کے کنارے واقع ہیں۔

اس دوران گاندربل، کنکن اور سونہ مرگ کی جانب سے تیز رفتار دریائے سندھ میں میں کئی افراد بہہ گئے تاہم ڈویژنل کمشنر روہت کنسل نے بتایا کہ فوج، پولیس اور سول اہلکاروں کی فوری امدادی کارروائی سے انھیں بچا لیا گیا۔

محکمۂ موسمیات کے سربراہ سونم لوٹس کا کہنا ہے ’مون سون بارشوں کا سلسلہ مزید کئی دن تک جاری رہے گا اور کہیں کہیں پر برفباری کا بھی امکان ہے۔‘

اس دوران بارشوں سے نہ صرف دیہات میں سیلابی صورت حال ہے بلکہ سرینگر اور دوسرے قصبوں میں بھی شاہراہیں ایک دریائی منظر پیش کر رہی ہیں۔

سکول اور کالج بند ہیں اور تمام امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔400 کلومیٹر سرینگر، لداخ اور 300 کلومیٹر مسافت کی سرینگر، جموں شاہراہیں بھی آمدورفت کے لیے بند ہیں۔

کشمیر میں پاکستان کے ساتھ ملنے والی حد متارکہ یا لائن آف کنٹرول اور باقاعدہ سرحد کے قریبی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔

ان پہاڑوں خطوں میں تیز بارش کی وجہ سے مٹی کے تودے گرنے سے فوج کے کئی عبوری ٹھکانے تباہ ہوگئے ہیں۔

سابق سرکاری افسر نعیم اختر کا کہنا ہے ’تاریخ گواہ ہے جب بھی اگست یا ستمبر میں اس پیمانے کی بارش ہوتی تھی، کشمیر سیلاب میں ڈوب جاتا تھا۔‘

اسی بارے میں