کشمیر: مسلسل بارشیں، کم از کم 77 افراد ہلاک

Image caption بھارت میں بارشوں کے باعث مٹی کے تودے گرنے کا واقعات بہت عام ہیں

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں مسلسل بارشوں کی وجہ سے مختلف واقعات میں کم از کم 77 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

بھارت کے زیرِ کشمیر میں حکومت نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کو سیلابی ریلے نے باراتیوں سے بھری جس مسافر بس کو بہا لیا تھا، اس میں سوار سبھی پچاس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ جموں کے ڈویژنل کمشنر شانت منو نے بی بی سی کو بتایا: ’چار لاشیں برآمد ہوئی ہیں اور دیگر لاشوں کی تلاش جاری ہے۔‘

جموں کے دیگر اضلاع اور کشمیر میں مختلف واقعات کے دوراں 27 افراد مارے گئے ہیں۔ مختلف اضلاع میں لوگوں نے بتایا کہ انتظامیہ کی غفلت سے انھیں مشکلات کا سامنا ہے۔

علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے بھی بحرانی صورتحال سے نمٹنے میں حکومت کی مبینہ ناکامی پر اہل اقتدار کی تنقید کی ہے۔ انھوں نے اعلان کیا کہ ان کے کارکن لوگوں کی رضاکارانہ مدد کے لیے متاثرہ آبادیوں کی طرف نکل پڑے ہیں۔

دریں اثنا کشمیر کے وزیرخزانہ عبدالرحیم راتھر نے جمعرات کو دیر رات ایک پریس کانفرنس میں بتایا: ’یہ سچ ہے کہ کچھ علاقوں میں خراب موسم کی وجہ اسے امدادی کام میں خلل پڑا ہے لیکن ہم24گھنٹے چوکس ہیں۔ ہیلی کاپٹر تیار ہیں لیکن ہمیں خراب موسم کی وجہ سے اڑان کا کلئیرنس نہیں مل رہا ہے۔ جونہی پرواز کے لیے موسم سازگار ہوجائے گا ہم متاثرہ علاقوں میں امدادی کام میں تیزی لائیں گے۔‘

ہلاکتوں کی تفصیل دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ چار فوجی اہلکار کپوارہ میں اُس وقت مارے گئے جب بارش کی وجہ سے مٹی کا تودا ان کی گاڑی پر آ گرا۔ جموں کے ریاسی اور پونچھ اضلاع میں خاتون اور بچے سمیت 12 افراد ہلاک ہوگئے۔ جنوبی کشمیر کے کوکرناگ میں دو، شمالی ضلع بارہمولہ میں دو اور بڈگام میں دو افراد ہلاک ہوگئے۔

کشمیر اور جموں خطوں سے تین دریا، جہلم، سندھ اور چناب بہتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تینوں دریاوں کا پانی خطرے کے نشان سے اُوپر تک پہنچ گیا ہے۔ حکومت نے دریائے جہلم اور سندھ کے کناروں پر یا ان کے نزدیک آباد بستیوں کومکان خالی کرنے کے لیے کہا ہے۔ سرینگرمیں انسداد بحران سے متعلق ایک کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔ سرکاری ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ خود اس کنٹرول روم کی نگرانی کررہے ہیں۔

بدھ کی رات کو ہی سرینگر کے کئی ہسپتالوں میں داخل مریضوں کو نکالا گیا کیونکہ یہاں کے اکثر ہسپتال دریائے جہلم کے کنارے واقع ہیں۔ اس دوران گاندربل، کنکن اور سونہ مرگ کی طرف سے تیزرفتار دریائے سندھ میں میں کئی لوگ بہہ گئے۔ تاہم ڈویژنل کمیشنر روہت کنسل نے بتایا کہ فوج، پولیس اور سول اہلکاروں کی فوری امدادی کاروائی سے انہیں بچالیا گیا۔

موسمیات محکمہ کے سربراہ سونم لوٹس کا کہنا ہے کہ مون سُون بارشوں کا سلسلہ مزید کئی دن تک جاری رہے گا اور کہیں کہیں پر برفباری کا بھی امکان ہے۔ اس دوران بارشوں سے نہ صرف دیہات میں سیلابی صورتحال ہے بلکہ سرینگر اور دوسرے قصبوں میں بھی شاہراہیں ایک دریائی منظر پیش کررہی ہیں۔

سکول اور کالج بند ہیں اور تمام امتحانات ملتوی کردیے گئے ہیں۔ چار سو کلومیٹر سرینگر۔لداخ اور تین سوکلومیٹر مسافت کی سرینگر۔جموں شاہراہیں بھی آمدورفت کے لیے بند ہیں۔

کشمیر میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی حدمتارکہ یا لائن آف کنٹرول اور باقاعدہ سرحد کے قریبی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔ ان پہاڑوں خطوں میں تیز بارش کی وجہ سے مٹی کے تودے گرنے سے فوج کے کئی عبوری ٹھکانے تباہ ہوگئے ہیں۔

سابق سرکاری افسر نعیم اختر کا کہنا ہے: 'تاریخ گواہ ہے جب بھی اگست یا ستمبر میں اس پیمانہ کی بارش ہوتی تھی، کشمیر سیلاب میں ڈوب جاتا تھا۔'

اسی بارے میں