پاکستان اور بھارت کی ایک دوسرے کو امداد کی پیشکش

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سیلاب کے متاثرین کے لیے ایک ہزار کروڑ روپے کی اضافی مدد کرنے کا اعلان کیا ہے

پاکستانی دفترِ خارجہ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں امداد کی پیشکش کے جواب میں انھیں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں مدد کی پیشکش کر دی ہے۔

یاد رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستانی حکومت کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے نمٹنے میں مدد کی پیشکش کی تھی۔

جواباً پاکستانی دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’پاکستان کی حکومت اور عوام لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب سیلاب سے کشمیری بھائیوں کی قیمتی جانوں کے نقصان پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں امدادی اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری ہیں اور ہم بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے لوگوں کا دکھ محسوس کر سکتے ہیں اور ان کی تکالیف میں کمی کے لیے ہر ممکن امداد دینے کی پیشکش کرتے ہیں۔‘

اس سے قبل کشمیر میں اپنے دورے کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ ’یہ مصیبت جیسے ہمارے ہاں جموں کشمیر میں آئی ہے، ویسے ہی یہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی آئی ہے۔ وہاں کے رہائشیوں کو بھی بڑی تعداد میں نقصان پہنچا ہے۔‘

نریندر مودی نے کہا کہ ’پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے رہائشیوں کی مدد کے لیے بھارت سرکار پاکستان سرکار کی ہر ممکن مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔ وہ جو بھی چاہیں گے، جب چاہیں گے، بھارت سرکار پاکستان کو بھی اس پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں اس سیلاب کے باعث جو مصیبت آئی ہے اس میں مدد کے لیے تیار ہیں۔‘

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اتوار کو سیلاب سے متاثرہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کا ایک روزہ دورہ کیا اور متاثرین کے لیے ایک ہزار کروڑ روپے کی اضافی مدد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

انھوں نے اسے قومی سطح کی تباہی قرار دیا اور وزیر اعظم فنڈ سے ایک لاکھ کمبل فوری طور پر خریدنے کا حکم دیا۔

انھوں نے کہا کہ مرکز کی طرف سے ریاست کو پہلے ہی تباہی کے انتظام کے لیے 1100 کروڑ روپے دیے گئے تھے لیکن جتنی بڑی آفت ہے اس کے لیے یہ رقم کافی نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بھارت سرکار پاکستان سرکار کی ہر ممکن مدد کرنے کے لیے تیار ہے: نریندر مودی

انھوں نے کہا کہ اب امدادی کام کے علاوہ جس بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے اسے درست کرنے کے لیے فوج کو لگایا گیا ہے۔

مودی نے کہا کہ جہاں پل ٹوٹ گئے ہیں بجلی اور مواصلات کے نظام میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے ان کو درست کرنے کے لیے فوری طور فوج پہنچ گئی ہے اور دیگر لوگ آ رہے ہیں۔

انھوں نے لوگوں سے جموں کشمیر کے لوگوں کی ہر ممکن مدد کرنے کی اپیل بھی کی۔

انھوں نے کہا کہ سیاحتی مقامات پر سیاح پھنسے ہوئے ہیں اس لیے میں نے گزارش کی ہے کہ امدادی کام میں مصروف طیارے واپس جاتے وقت پھنسے ہوئے لوگوں کو پٹھان کوٹ تک پہنچائیں۔

یاد رہے کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں اب تک سیلاب اور بارشوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 63 ہو گئی ہے جبکہ 16 ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں اور 5550 گھر تباہ ہوئے ہیں جبکہ متاثرین کے لیے کوٹلی میں امدادی کیمپ قائم کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ 105 افراد زخمی اور 28 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں اور حویلی ضلع کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے جس کا رابطہ باقی علاقوں سے منقطع ہے۔

اسی بارے میں